انوارالعلوم (جلد 21) — Page 215
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۱۵ رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھے جائیں پر گولی چلانا اور دوسرے فنونِ حرب کی اس لئے مشق کرائی جاتی ہے کہ سیکھنے کے بعد وہ وقت آنے پر قوم اور وطن کی خدمت کر سکے اور دشمن کا مقابلہ کرے۔لیکن اگر ٹرینگ کے بعد وہ یہ کہہ دے کہ اس نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر دیا ہے اور وقت آنے پر اپنی قوم اور وطن کی حفاظت کے لئے دشمن سے لڑائی نہ کرے تو اُس کی ٹریننگ کا کیا فائدہ۔غرض رمضان آتا ہی اِس لئے ہے کہ وہ مؤمن کو سال کے دوسرے دنوں میں بھی روزے رکھنے کی عادت ڈالے۔جیسے زکوۃ کو سال میں گو ایک دفعہ رکھا گیا ہے مگر اس لئے کہ باقی ایام میں صدقہ دینے کی انسان کو عادت ڈالے۔اسی طرح حج کو سال میں ایک دفعہ اس لئے مقرر کیا تھی گیا ہے تا قومی اجتماعوں میں لوگوں کو جمع ہونے کی عادت ہو۔اب اگر کوئی کہتا ہے کہ حج کے بعد می کسی میٹنگ، کسی جلسے اور کسی شوری کی ضرورت نہیں تو اسے کون عقلمند کہے گا۔ہم اسے یہی کہیں گے کہ حج سال میں ایک دفعہ مقرر کرنے کی حکمت یہی تھی کہ مسلمانوں کو قومی اجتماعوں کی طرف توجہ دلائی جائے۔اگر کوئی زکوۃ دینے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ صدقہ کی کیا ضرورت ہے تو ہم اسے کہیں گے کہ زکوۃ مقرر ہی اِس لئے کی گئی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے غریب اور بے کس بھائیوں کی کی مدد کرنے کی عادت ڈالی جائے۔غرض یہ سب کام ایسے ہیں جو مومن کو اس فرض کی طرف کی توجہ دلاتے ہیں جو اُس پر عائد کیا گیا ہے۔صحابہ میں ان کاموں کے لئے ایک خاص تعہد اور جوش پایا جاتا تھا۔وہ رمضان کے بعد وقتاً فوقتاً نفلی روزے بھی رکھا کرتے تھے۔لیکن میں اپنی تی جماعت کے دوستوں کو دیکھتا ہوں کہ گو وہ زکوۃ دینے میں کمزور ہیں لیکن پھر بھی چندے دینے کی اور صدقہ کرنے کی ان میں کچھ نہ کچھ عادت پائی جاتی ہے۔اسی طرح گوان میں سے بعض کی نمازوں میں کمزور ہیں لیکن پھر بھی نوافل کی طرف کچھ نہ کچھ توجہ پائی جاتی ہے۔حج کی طرف اگر چہ وہ پوری توجہ نہیں دیتے لیکن قومی اجتماعوں میں حصہ لینے کی ان میں ایک حد تک عادت کی ہے مگر روزوں کی طرف بہت کم توجہ پائی جاتی ہے۔بہت کم ایسے احمدی ہیں جو نفلی روزے رکھنے کے عادی ہیں۔احادیث میں آتا ہے حضرت عبد اللہ بن عمر وہ فرماتے ہیں میں نے روزانہ روزہ رکھنا شروع کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرما یا روزانہ روزے رکھنا