انوارالعلوم (جلد 21) — Page 203
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۰۳ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر ہوں ہاں میرے میزبان وکیل ہیں۔اُس نے کہا پھر آپ نے یہ علم کہاں سے حاصل کیا ہے؟ میں نے کہا یہ سب چیزیں خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں۔اس کے بعد میں نماز کے لئے باہر آ گیا۔قاضی اسلم صاحب بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔میں نے اُن سے کہا قاضی صاحب ! آج آپ کا علم معلوم ہو گیا۔اُنہوں نے کہا کس طرح؟ میں نے کہا آپ کی ایک شاگرد آئی تھی اُس کے دماغ میں میں نے آدھ گھنٹہ تک یہ بات ڈالنے کی کوشش کی کہ میں پرائمری فیل ہوں مگر وہ یہی کی پوچھتی تھی کہ کیا آپ ایم۔اے فلاسفی پاس ہیں؟ کیا آپ نے انگلستان اور امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے؟ کیا آپ بی۔اے ایل۔ایل۔بی ہیں؟ کیا آپ کا شاگر د اتنا بھی نہیں جانتا کہ پرائمری فیل اور ایم اے پاس میں کیا فرق ہوتا ہے۔وہ کہنے لگے اُس کی عقل ماری گئی تھی وہ کرتی ہی کیا۔پس خواہ ہم مانیں یا نہ ما نہیں ہمیں دوسرے علوم ضرور سیکھنے چاہئیں تا کہ ہم معلوم کر سکیں کہ ہمارے مخالفوں کے کیا خیالات ہیں اور ہم اُنہیں کس طرح مغلوب کر سکتے ہیں۔ہمارے علماء کی ی غلطی تھی کہ انہوں نے ایک منطقی کو اتنی عزت دے دی کہ اُسے قرآن کریم پر بھی حاوی کر دیا۔حالانکہ ایک منطقی کا قرآن کریم پر حاوی ہونا تو کیا وہ تو ہمارے بوٹوں کو صاف کرنے کے قابل بھی نہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم بھی اس غلطی کو دُہرانا شروع کر دیں لیکن بہر حال ہمیں دوسرے علوم کی کچھ نہ کچھ واقفیت تو ہونی چاہیے۔وہ قوم بھی ترقی نہیں کر سکتی جس کے صرف چند افراد عالم ہوں۔ہم نے اگر ترقی کرنا ہے تو ہمیں جماعت کے علم کے درجہ کو بلند کرنا ہو گا۔اس کا طریق یہی ہے کہ کتب کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے جس میں دنیا کے تمام موٹے موٹے علوم آجائیں اور وہ بچوں ، درمیانی عمر والوں اور پختہ کارلوگوں غرض سب کے لئے کافی ہوں۔اس کے تین سلسلے ہوں گے پہلا سلسلہ مڈل سے نیچے پڑھنے والے بچوں کے لئے یا یوں سمجھ لیا جائے کہ پہلا سلسلہ ۱۳ سال سے کم عمر والے بچوں کے لئے ہوگا۔دوسرا سلسلہ انٹرنس پاس یا سولہ سترہ سال تک کے بچوں کے لئے ہوگا اور تیسرا سلسلہ اس سے اوپر عمر والوں اور پختہ کا رلوگوں کے لئے ہو گا۔یہ کتا بیں ایسی سلیس اُردو میں لکھی جائیں گی کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ اُردو لکھنے والا بھی اسے سمجھ سکے۔اسی طرح میری رائے یہ ہے کہ یہ کتا ہیں اس طرز پر لکھی جائیں کہ پہلی کتاب ۰ ۵صفحات کی ہو، دوسری ۸۰ صفحات کی ہو اور