انوارالعلوم (جلد 21) — Page 198
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۹۸ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر مامور من اللہ اور خدا تعالیٰ کے ایک نبی تھے اور جیسا کہ واقعات بتاتے ہیں سقراط بھی ایک مامور من اللہ تھا۔دونوں ایک ہی منبع سے علم حاصل کرنے والے تھے ، ایک ہی قسم کا کام ان کے سپر د تھا۔لیکن ایک کو جب کہا جاتا ہے کہ آپ یہاں سے نکل جائیں تو وہ یہ جواب دیتا ہے کہ میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا اور خدا تعالیٰ کی تقدیر یہی ہے کہ میں یہیں مارا جاؤں اگر میں یہاں سے نکلتا ہوں تو خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرتا ہوں۔لیکن دوسرے شخص یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کو جب سزا کا حکم سنایا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں میں کوشش کروں گا کہ یہاں سے نکل جاؤں کی اور کسی اور جگہ چلا جاؤں۔یہ واقعات اس طرح کیوں ہوئے؟ کیا سقراط جھوٹا تھا یا کیا کی حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک خطرناک غلطی کی اور اپنے آپ کو تقدیر الہی سے بچانے کی کوشش کی؟ حقیقت یہ ہے کہ سقراط اُسی شہر کی طرف مبعوث تھا جس کے رہنے والوں نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔سقراط اُن جگہوں کے لئے مبعوث نہیں تھا جن کی طرف بھاگ جانے کے لئے اُسے اُس کے شاگرد مجبور کرتے تھے۔سقراط دوسری قوموں کی طرف مبعوث نہیں تھا لیکن مسیح علیہ السلام کو یہ کہا گیا تھا کہ تم بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک بھی میرا یہ پیغام پہنچاؤ کی اور یہ بھیٹر میں ایران ، افغانستان اور کشمیر میں بھی بستی تھیں۔سقراط اگر اپنے شہر کو چھوڑتا تھا تو وہ تی ایک مکتب اور مدرسہ کو چھوڑتا تھا جس کے لئے اُسے مقرر کیا گیا تھا۔مثلاً ایک لوکل سکول میں کسی کو ہیڈ ماسٹر مقرر کیا جاتا ہے تو وہ اُس سکول کو بلا اجازت نہیں چھوڑ سکتا۔اگر وہ اُس سکول کو بلا اجازت چھوڑے گا تو وہ مجرم ہوگا۔لیکن ایک انسپکٹر کو اپنے حلقہ میں کسی جگہ پر جانا پڑتا ہے تو وہ بلا اجازت چلا جاتا ہے۔اور ایک لوکل سکول کا ہیڈ ماسٹر کسی دوسری جگہ نہیں جا تا جب تک وہ اپنے بالا افسر سے چھٹی حاصل نہیں کر لیتا۔لیکن ایک انسپکٹر بغیر اجازت افسر بالا کے اپنے حلقہ کا دورہ کرتا ہے۔ایک ہیڈ ماسٹر کو یہ کہا جاتا ہے کہ تم اگر اپنی جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ گئے تو مجرم ہو گے لیکن انسپکٹر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو اُسے کوئی شخص مجرم نہیں گردانتا اس لئے کہ اُس کا دائرہ عمل اُس حد تک وسیع ہے۔لیکن ایک ہیڈ ماسٹر کا دائرہ عمل ایک سکول تک محدود ہے اور وہ اگر اُس سے نکلتا ہے تو قانون کو توڑتا ہے۔پس سقراط ایک شہر کی طرف مبعوث کیا گیا تھا اُس کا دائرہ عمل محدود تھا اگر وہ اُس شہر کو چھوڑتا تھا تو گناہ گار تھا کیونکہ اُس کے مخاطب اُسی شہر