انوارالعلوم (جلد 21) — Page 127
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۲۷ ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی تقریر فَاجْعَل افيَّدَةٌ مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي الَيْهِمُ میں نے اپنی بیوی اور بچے کو یہاں لا کر چھوڑا ہے اور یہ سمجھتے ہوئے چھوڑا ہے کہ وہ اس جنگل میں بھو کے اور پیاسے مر جائیں گے۔اب اے خدا! اگر تو خدا ہے تو یہاں اُن کے لئے لوگوں کو کھینچ لا اور اُن کے قلوب اِس طرف مائل کر دے۔وارزُقُهُمْ مِنَ الثَّمَرات و مگر اے خدا! میں تجھ سے اُن کے لئے جمعرات کی روٹی نہیں مانگتا، میں تجھ سے اُن کے لئے چاول بھی نہیں مانگتا بلکہ میں یہ مانگتا ہوں کہ یہ جگہ جہاں گھاس کی ایک پتی بھی پیدا نہیں ہوتی اس جگہ دنیا بھر کے میوے آئیں اور یہ اُن میووں کو یہاں بیٹھ کر کھا ئیں۔تو روٹی دے گا تو میں نہیں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دیا ہے، تو چاول کھلائے گا تو میں نہیں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دیا ہے، تو زردہ اور پلاؤ کھلائے گا تو میں نہیں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دیا ہے۔میں تیری خدائی کا ثبوت کی تب مانوں گا جب یہ مکہ میں بیٹھ کر چین اور جاپان اور یورپ اور امریکہ کے میوے کھائیں تب میں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دے دیا ہے۔میں نے بندہ ہو کر ایک انتہائی قربانی کی ہے اب اے خدا! میں تیری خدائی کو بھی دیکھنا چاہتا ہوں اور وہ بھی اس رنگ میں کہ اِس وادی غیر ذی زرع میں دنیا کا ہر بہترین رزق تو انہیں پہنچا۔خدا تعالیٰ نے ابراہیم کے اس چیلنج کو قبول کیا اور اُس نے کہا۔اے ابراہیم ! تو نے اپنی اولادکو ایک وادی غیر ذی زرع میں لا کر بسایا ہے اور مجھ سے کہا ہے کہ میں نے اپنا بیٹا قربان کر دیا ہے، اب تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے! تو نے کہا ہے کہ میں نے ایک عاجز بندہ ہو کر اپنی بندگی کا ثبوت دے دیا، اب اے خدا! تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے! اور تو نے ثبوت یہ مانگا ہے کہ یہ نہ کمائیں بلکہ بنی نوع انسان کمائیں اور انہیں کھلائیں اور کھلائیں بھی معمولی چیزیں نہیں بلکہ دنیا بھر کے میوے ان کے پاس پہنچیں۔میں تیرے اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں اور میں اس وادی غیر ذی زرع میں جہاں گھاس کی ایک پتی بھی نہیں اُگتی تجھے ایسا ہی کر کے دکھاؤں گا۔میں نے حج کے موقع پر خود اس کا تجربہ کیا ہے۔میں نے مکہ مکرمہ میں ہندوستان کے گنے دیکھے ہیں، میں نے مکہ مکرمہ میں طائف کے انگور کھائے ، میں نے مکہ مکرمہ میں اعلیٰ درجہ کے انار کھائے ہیں، گنے کے متعلق تو مجھے یاد نہیں کہ میری طبیعت پر اس کے متعلق کیا اثر تھا لیکن