انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 97

انوار العلوم جلد ۲۱ ۹۷ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا مہ امیابی ہے لئے نہیں کہ وہ تمہاری مطلوب ہیں جو شخص دنیوی سامانوں اور دنیوی عزت و جاہ کو اپنا مطلور بناتا ہے اُسے خدا تعالیٰ نہیں ملتا۔لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کو اپنا مطلوب بنالیتا ہے اُسے سب چیزیں میسر آ جاتی ہیں۔یہ دو عجیب چیزیں ہیں ان میں سے ایک چیز کی تلاش کرنے سے دوسری چیز خود بخو دمل جاتی ہے لیکن دوسری کو تلاش کرنے سے پہلی چیز حاصل نہیں ہوتی۔جو شخص دنیا کی تلاش کرتا ہے اُسے خدا تعالیٰ نہیں ملتا مگر جو خدا تعالیٰ کی تلاش کرتا ہے اور اُس کی رضا کے حصول کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اُسے دنیا بھی مل جاتی ہے۔عام طور پر لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس بادشاہتیں بھی تھیں اور اس کے معنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں بھی دنیوی سامانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے حالانکہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ بادشاہتیں ایسی نہیں تھیں کہ ان کی وجہ سے خدا تعالیٰ مل گیا ہو بلکہ خدا تعالیٰ کے مل جانے کی وجہ سے یہ بادشاہتیں ملی تھیں اور اب بھی ہم خدا تعالیٰ کو پا کر بادشاہت کو حاصل کر سکتے ہیں۔یہی چیز آسمانی جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔جو لوگ بھی خدا تعالیٰ کے مامور پر ایمان لانے والے ہوں گے۔جو لوگ بھی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ساتھ وابستہ رکھیں گے انہیں دنیا ملے گی لیکن دنیا انہیں اسی صورت میں ملے گی کہ وہ دنیوی ترقیات کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں ، وہ انہیں دور پھینک دیں۔وہ کہہ دیں کہ ہم انہیں نہیں جانتے۔ہم صرف خدا تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔جب وہ دنیا کی طرف سے منہ پھیر لیں گے اور ان کا مقصود اور مطلوب صرف خدا تعالیٰ کی رضا ہوگی تب خدا تعالیٰ دنیا کو خود اُٹھا کر اُن کے قدموں میں پھینک دے گا۔سید عبد القادر صاحب جیلانی جو ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں وہ ہمیشہ عمدہ کھانا کھاتے تھے اور عمدہ لباس پہنتے تھے۔کسی دنیا دار نے آپ پر اعتراض کیا کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی " اچھے کپڑے پہنتے ہیں ، اچھے کھانے کھاتے ہیں یہ بزرگ نہیں ہو سکتے۔کسی نے یہ بات آپ کو بھی بتادی کہ فلاں شخص نے آپ پر اعتراض کیا ہے کہ آپ اچھا کھاتے ہیں، اچھا کی پہنتے ہیں معلوم ہوتا ہے آپ بزرگ اور ولی اللہ نہیں، بھلا بزرگوں کو ان چیزوں سے کیا تعلق۔سید عبدالقادر صاحب جیلانی نے فرمایا اُس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ میں کیوں ایسا کرتا ہوں۔آپ فرمانے لگے میں اُس وقت تک کوئی کھانا نہیں کھا تا جب تک خدا تعالیٰ خود نہیں کہتا کہ