انوارالعلوم (جلد 21) — Page viii
انوار العلوم جلد ۲۱ وو ۳ تعارف کتب پہلے مسلمانوں کے پاس اپنا کوئی وطن نہیں تھا لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے ایک مقام عطا فرمایا ہے جسے ہم اپنا وطن کہہ سکتے ہیں ۔ اس وطن کے مل جانے کے بعد ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں ۔ پہلے زمانہ میں اگر کوئی ملک اس پر حملہ کرتا تھا یا کسی ملک سے ہمارے ملک کی لڑائی ہو جاتی تھی تو ہم کہتے تھے کہ اس ملک پر انگریز حکومت کرتا ہے اس لئے ہمیں لڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ انگریز جائے اور دشمن سے لڑے ۔۔۔ اب انگریز جا چکا ہے اس لئے اب اس کی حفاظت کی ذمہ داری اخلاقی اور مادی طور پر مسلمانوں پر ہی ہے پس اب اپنے اندر بیداری پیدا کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح بعض لوگوں کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کشمیر کی جنگ جہاد ہے یا نہیں؟ اس کا تفصیل کے ساتھ جواب ارشادفرماتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔ اب بھی اگر تم نے اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھا تو تم اس سے بھی زیادہ حسرت کے ساتھ اپنے ہاتھ ملو گے جس قدر حسرت کے ساتھ تم نے مشرقی پنجاب میں اپنے ہاتھ ملے تھے۔ اس وقت بجائے اس کے کہ کشمیر کی مدد کی جاتی یہ بحثیں شروع ہوگئیں ہیں کہ آیا کشمیر کی جنگ جہاد ہے یا نہیں ؟“ کہ کی جہادت آخر پر جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :۔ وو پس اپنے اندر ایک نیا تغیر پیدا کرو اور جونئی ذمہ داریاں خدا تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہیں اُنہیں دوسروں سے زیادہ محسوس کرو ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت حکومت تمہاری نہیں تم پاکستان میں اقلیت میں ہو اور اس کے فوائد دوسروں کو پہنچیں گے تم کو تو نہیں پہنچیں گے لیکن تم اس بات کے مدعی ہو کہ تم نے خدا تعالیٰ کی مخلوق اور تمام بنی نوع انسان کے لئے کام کرنا ہے ۔ تم نے یہ نہیں دیکھنا کہ اس سے تم کو فائدہ پہنچتا ہے یا کسی اور کو ۔ تم نے یہ دیکھنا ہے کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو سب سے زیادہ ادا کرتے ہو۔“