انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 41

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء ہم نے اکٹھے ہو کر دنیا کو فتح کرنے کی سکیمیں سوچنی ہیں اُس پر خرچ کیا ہوا روپیہ ضائع چلا جائے گا۔اول تو وہ روپیہ ضائع نہیں ہو گا لیکن اگر ہمارا دس ہیں لاکھ روپیہ ضائع بھی ہو جائے تو اس کام کے مقابلہ میں جو ہم نے کرنا ہے اس روپے کی پرواہ ہی کیا ہے۔اس روپیہ کے ضائع ہونے کی ہمیں اتنی بھی جس نہیں ہونی چاہئے جتنی کہ جسم کی میل اُتر جانے کی ہوتی ہے۔کہتے ہیں جب شاہ جہاں کی بیوی ممتاز محل فوت ہوئی تو اُس نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ آیا اور اُس نے نقشہ کھینچ کر بتایا کہ ممتاز محل کے لئے جنت میں ایسی جگہ تیار کی گئی ہے۔شاہ جہاں نے چاہا کہ وہ اس قسم کا روضہ تیار کرائے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاہ جہاں نے ممتاز محل کی زندگی میں ہی یہ خواب دیکھی تھی۔بہر حال شاہ جہاں نے جب اس کا انجینئروں سے ذکر کیا تو اُنہوں نے کہا ہم ایسی عمارت نہیں بنا سکتے۔اُن دنوں ایک انجینئر ایران سے آیا ہوا تھا اس نے بادشاہ سے کہا ایسی عمارت بن تو سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے آپ دو لاکھ کے توڑے اپنے ساتھ لے لیں اور میرے ساتھ دریا کے پار جائیں۔شاہ جہاں نے ایک ایک ہزار کے دوسو تو ڑے لے لئے۔جب کشتی چلی تو اس انجینئر نے ایک تو ڑا اُٹھایا اور دریا میں پھینک کر کہا کہ بادشاہ سلامت اس طرح روپیہ خرچ ہو گا تب عمارت بنے گی۔شاہ جہاں نے کہا تھ کوئی حرج نہیں۔پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے ایک اور تو ڑا دریا میں پھینک کر کہا۔بادشاہ سلامت اس طرح روپیہ خرچ ہوگا۔پھر اس نے ایک اور تو ڑا پھینکا مگر شاہ جہاں نے اُس کی ذرا بھی پرواہ نہ کی یہاں تک کہ دریا کے آخر تک دو لاکھ کے توڑے ختم ہو گئے اور ی شاہ جہاں کے چہرے پر قطعاً ملال کے کوئی آثار ظاہر نہ ہوئے۔جب انجینئر دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچا تو اس نے کہا بادشاہ سلامت ! آپ کی خواہش کے مطابق عمارت بن جائے گی گی۔اصل بات یہ ہے کہ ایسی عمارت وہ دوسرے انجینئر بھی بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے یہ خیال کیا کہ اس عمارت کے تیار کرنے پر بہت زیادہ روپیہ خرچ ہو گا۔اگر ہم نے یہ عمارت شروع کی ج تو کہیں ہم مار نہ دیئے جائیں اس لئے کہ ہم نے خزانہ کا اس قدر روپیہ کیوں خرچ کرایا۔میں نے آپ کا امتحان لے لیا ہے میں نے دو لاکھ کے توڑے دریا میں پھینک دیئے مگر آپ نے اُف تک نہیں کی تب میں سمجھا کہ اگر اس عمارت کی تیاری پر آپ کا دو کروڑ روپیہ بھی لگ جائے گا تو