انوارالعلوم (جلد 21) — Page 626
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۲۶ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔تھیں اس لئے خبریں دیر سے پہنچتی تھیں۔جب کوئی تجارتی قافلہ شہر میں آتا تو لوگ اس کا استقبال کرتے اور اُس سے تازہ خبریں پوچھتے۔اسی طرح جب یہ قافلہ بغداد پہنچا تو لوگ جمع ہو گئے اور کہا کوئی تازہ لطیفہ سناؤ۔قافلہ والوں نے بتایا فلاں جگہ سے جب ہم گزر رہے تھے تو کسی عیسائی نے ایک مسلمان دیہاتی عورت کو چھیڑا اور اس نے جوش میں آکر کہا يَا لَلْخَلِيفَة! یہ کتنی عجیب بات ہے کہ خلیفہ کی حالت تو اس وقت ایک وظیفہ خوار کی سی ہے اور وہ اسے اپنی مدد کیلئے پکار رہی تھی۔پھیلتے پھیلتے یہ خبر خلیفہ کے دربار میں بھی پہنچی۔باوجود اس کے کہ خلیفہ کی حیثیت اُس وقت محض ایک وظیفہ خوار کی سی تھی لیکن دہلی کے بادشاہوں کی طرح وہ اُس زمانہ میں بھی اپنا در بار لگا یا کرتا تھا۔دربار میں کسی شخص نے دوسرے کے کان میں کہا کہ یہ لطیفہ ہوا ہے۔اُس درباری نے تو یہ بات لطیفہ کے رنگ میں بیان کی تھی لیکن خلیفہ کے ذہن میں اب بھی بات تھی کہ وہ بادشاہ ہے۔یہ بات سن کر اُس کے دل پر ایک چوٹ سی لگی اور وہ تخت سے اُتر آیا اور ننگے پاؤں باہر نکل گیا اور کہنے لگا میرے ساتھ کوئی جائے یا نہ جائے میں ضرور جاؤں گا اور یا تو اس عورت کو چھڑا لاؤں گا یا وہیں مارا جاؤں گا۔یہ ایک ایسی چیز تھی کہ جب ایک بناوٹی اور موم کی مانند خلیفہ کے منہ سے بھی یہ بات نکلی کہ خواہ کوئی میرے ساتھ جائے یا نہ جائے میں جاؤں گا اور اُس عورت کو چھڑا لاؤں گا یا خود مارا جاؤں گا تو بہت سے اور مومنوں نے بھی خیال کیا کہ ہم بھی اس مظلوم عورت کو بچانے کے لئے نکلیں چنانچہ ہزاروں ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر تیار ہو گیا۔پھر جب ارد گرد کے علاقہ میں خبر پہنچی تو دوسرے نوابوں نے بھی یہ خیال کیا کہ ہم کیوں پیچھے رہیں وہ بھی اپنے آدمیوں کو ساتھ لے کر اس کے ساتھ مل گئے۔جب خلیفہ شام تک پہنچا تو ایک لشکر جرا راکٹھا ہو گیا۔چنانچہ لڑائی ہوئی اور وہ عورت دشمن کے پنجہ سے چھڑالی گئی۔پس اگر ایک مظلوم عورت کی آواز نے جس میں رحم کی اپیل پائی جاتی تھی ایک مردہ خلیفہ کے اندر جس کی حکومت نہیں تھی صرف گورنر کچھ روپے دے دیتے تھے اور ان کے ساتھ وہ شطرنج اور شراب میں اپنا وقت صرف کر دیتا تھا ایک بیداری پیدا کر دی اور اُس نے اس کی رحم کی اپیل سے متاثر ہو کر یہ ارادہ کر لیا کہ وہ جب تک اس مظلوم عورت کو دشمن سے نجات نہیں