انوارالعلوم (جلد 21) — Page 625
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۲۵ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔زمینداریاں کرتے تھے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود زمینداری کرتے تھے چنانچہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ نے اُس کا ایک حصہ اپنے خاندان کے لئے وقف کر دیا تھا۔بہر حال دنیا کمانا منع نہیں۔ہاں جب خدا تعالیٰ کی آواز آجائے تو دوسرے تمام کاموں کو چھوڑ کر اُس طرف متوجہ ہو جانا چاہئے۔یہی اسلام کی تعلیم ہے۔خدا تعالی کی آواز تو بہت بڑی چیز ہے دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ماں اپنے کام میں مشغول ہوتی ہے لیکن جب اُسے بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو وہ سب کام چھوڑ کر اُس کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔مثلاً ایک عورت دودھ دوھ رہی ہوتی ہے، فرض کرو کہ وہ کسی اونچی جگہ پر بیٹھی دودھ دوھ رہی ہے ( اور دودھ کا خراب ہو جانا زمیندار کے لئے بہت بڑا نقصان ہے ) ادھر سے اسے بچہ کے رونے کی آواز آجاتی ہے تو وہ عورت دودھ پھینک کر بچہ کی طرف چلی جائے گی۔اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کی آواز آئے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اب کوئی اور کام کرنا می ہمارے لئے جائز نہیں۔اسلام کے تنزل کے زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں ان میں کمزوریاں تھیں وہاں ان چی کے اندر بعض اچھی خوبیاں بھی پائی جاتی تھیں۔خلفائے عباسیہ کی حکومت جب کمزور ہوئی تو اُس کی وقت خلیفہ کی حالت ایسی ہی تھی جیسے ہندوستان پر جب انگریزوں نے قبضہ کر لیا تو مغل بادشاہ کی بہادر شاہ ظفر کی حالت تھی۔عکہ تک تمام علاقہ چھن گیا تھا ایک دفعہ خلیفہ جب شطرنج کے مہروں کی کی طرح رہ گیا تھا۔مکہ میں سے ایک قافلہ گزر رہا تھا کہ ایک عورت کو کسی عیسائی نے چھیڑا اور اسے قید کر لیا وہ ایک دیہاتی عورت تھی اُسے یہ علم نہیں تھا کہ آجکل مسلمانوں پر ضعف کا زمانہ آیا ہوا ہے وہ مسلمانوں کی پہلی شان ہی سمجھتی تھی ،معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانہ میں عورتوں میں تعلیم کم ہو گئی تھی۔اس لئے جوش میں آکر کہا یا للخليفة - اے خلیفہ ! میں تمہیں اپنی مدد کیلئے پکارتی ہوں۔حالانکہ اُس وقت عیسائی بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی شکست دے چکے تھے اور خلیفہ تو کی اُس وقت دہلی کے آخری بادشاہ کی طرح تھا۔قافلہ کے لوگ اُس عورت کی اس بات پر ہنس پڑے اور کہا یہ کتنی پاگل ہیخلیفہ کو تو اس وقت کوئی پوچھتا بھی نہیں لیکن یہ اس کو مدد کے لئے پکار رہی ہے۔وہ سارا راستہ اس لطیفہ پر ہنستے آئے۔پرانے زمانہ میں ریل وغیرہ کی سہولتیں نہیں