انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 622

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۲۲ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔کے علاوہ تھی اور وہ حبشہ کی حکومت تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب مسلمانوں پر کفار نے مظالم ڈھائے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان حبشہ کی طرف چلے جائیں وہاں کا بادشاہ ان کو پناہ دے گا۔اس پر بعض مسلمان حبشہ کی طرف چلے گئے اور باوجود اس کے کہ کفار مکہ نے بہت کوششیں کیں کہ مسلمان ان کے حوالے کر دئیے جائیں حبشہ کا بادشاہ ایسا کرنے پر تیار نہ ہوا اور مسلمان اُس کی حکومت میں آرام کی زندگی بسر کرتے رہے۔اس بادشاہ کو بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تبلیغی خط لکھا اور وہ مسلمان بھی ہو گیا اور وہ خط اُس نے بطور تبرک چاندی کے بنے ہوئے ایک کیسٹ (CASKAT) میں رکھا اور اپنے وزراء کو دیا اور ہدایت کی کہ ہمیشہ کے لئے یہ خط محفوظ رکھا جائے کیونکہ ہمارے ملک کیلئے یہ تعویز کام دے گا۔حبشہ کے بادشاہ کا مسلمانوں پر یہ احسان تھا کہ اُس نے چالیس پینتالیس مسلمانوں کو پناہ دی بعد میں اُس وقت کا بادشاہ نجاشی مسلمان بھی ہو گیا مگر اُس کا وارث عیسائی تھا۔حبشہ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے مسلمانوں کی حکومت تھی۔اس کے ارد گرد مسلمانوں کی بڑی بڑی شہنشاہیاں تھیں۔مثلاً مصر کی فاطمی حکومت اس کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔مسلمانوں کے لشکر ٹڈی دل کی طرح اس کے ساحلوں سے گزر جاتے تھے مگر وہ حبشہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ہی تھے۔آجکل چالیس پینتالیس آدمیوں کو پناہ دینا ایسا کارنامہ نہیں کہ کوئی حکومت پناہ دینے والی کی عزت کرے لیکن مسلمانوں نے ۱۳۰۰ سال تک حبشہ کے احسان کو یاد رکھا مگر عیسائیوں کی جی حالت یہ ہے کہ جب مسلمان کمزور ہوئے تو انہوں نے سو سال تک بھی برداشت نہ کیا اور جنوبی کی اٹلی پر قبضہ کر لیا۔غرض یہ ایک ہی حکومت تھی جو مسلمانوں کے زمانہ اقتدار میں قائم رہی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمان یہ بتانا چاہتے تھے کہ جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی ادنیٰ سے ادنی بھی خدمت کی ہے وہ اس کی حفاظت کریں گے۔پس مسلمانوں کی یہ عظمت اگر مٹ جائے تو یہ ایسی چیز نہیں کہ کوئی شریف النفس اور حساس دل خواہ وہ عورت ہو یا مرد اس کے صدمہ سے اپنے نفس پر قابورکھ سکے۔لیکن کسی مصیبت کے آنے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس مصیبت کو جاری رکھا جائے۔جب بھی خدا تعالیٰ توفیق