انوارالعلوم (جلد 21) — Page 620
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۲۰ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔کی خاطر اپنے جذبات کی پرواہ نہیں کرتیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آجکل بھی ہزاروں ایسی عورتیں ملیں گی جو قومی ذمہ داریوں کے سامنے اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں لیکن وہاں تو وہ اپنے رشتہ داروں پر رو رہی تھیں کہ اُنہیں آواز آئی کہ جعفر پر رونے والا کوئی نہیں یہ آواز سنتے ہی وہ رُک گئیں اور فوراً حضرت جعفر کے گھر چلی گئیں۔جس طرح سائیکل کو فوراً موڑ نا مشکل ہے اسی طرح ان عورتوں کے جوش کو موڑنا بھی مشکل تھا لیکن وہاں ایسا ہی ہوا عورتیں اپنے مردوں پر آنسو بہا رہی تھیں اور جذبات کی رو میں بہی جارہی تھیں کہ یکدم انہیں رسول کریم ﷺ کی آواز آئی اور انہوں نے اپنے جذبات کو دبا دیا اور رونا بند کر دیا۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک عورت کا بچہ مر گیا تھا وہ قبر پر کھڑی رو رہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور آپ نے اُسے صبر کی تلقین کی۔وہ عورت کہنے لگی کہ دوسروں کو نصیحت کرنا آسان امر ہے جس کا اپنا بچہ مرگیا ہو تکلیف کا احساس اُسی کو ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا۔میرے تو سات بچے فوت ہو چکے ہیں اور یہ کہہ کر آپ چلے گئے۔کسی شخص نے اُس عورت سے کہا۔اے عورت! کیا تم نے پہچان نہیں یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔وہ عورت دوڑتی ہوئی آپ کے پاس آئی اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں صبر کرتی ہوں آپ نے فرمایا۔اب صبر کرنے کا کیا فائدہ اَلصَّبُرُ لِاَوَّلِ وَهْلَةٍ صبر تو شروع میں ہی ہوتا ہے۔یہ مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ انسان جوش میں آیا ہوا ہو تو اُس کیلئے رکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔جیسے وہ عورت جوش کی حالت میں تھی مگر اُس حالت میں اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہ پہچانا حالانکہ وہ آپ پر ایمان لانے والوں میں سے تھی۔پس ان عورتوں کو اپنے مُردوں پر روتے ہوے فوراً رُک جانا بہت بڑے تصرف اور طاقت کی علامت ہے۔غرض آدم علیہ السلام سے لیکر آخر تک ہر زمانہ میں مذہب عورتوں کا ذکر کرتا آیا ہے۔چنانچہ مکہ کی تعمیر کے وقت اسلام حضرت ہاجرہ کا بھی ذکر کرتا ہے۔حالانکہ نبی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیهما السلام تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت اسلام اُن کی والدہ کا ذکر کرتا ہے حالانکہ نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت قرآن کریم اُن کی والدہ کا