انوارالعلوم (جلد 21) — Page 612
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۲ قرونِ اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔تک کوئی آبادی نہیں تھی۔آپ نے ایک مشکیزہ پانی اور کھجوروں کی ایک تھیلی اُن کے پاس رکھ دی اور واپس چل پڑے۔رویا میں در حقیقت یہی دکھایا گیا تھا کہ اس سے مراد چھری سے ذبح کرنا نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر اسے ایسی جگہ چھوڑ آؤ جہاں کھانے کو نہ روٹی ملے اور نہ پینے کو پانی گویا اپنی طرف سے تم اُسے ذبح کر آؤ گے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب مکہ کے مقام پر پہنچے تو ایک مشکیزہ پانی اور کھجوروں کی ایک تحصیلی حضرت اسماعیل کی علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کے پاس رکھ کر چپکے سے کھسکے تا کہ بیوی ملامت نہ کرے۔آپ کی جب واپس جا رہے تھے تو اُس محبت کی وجہ سے جو قدرتی طور پر خاوند کو بیوی سے ہوتی ہے آپ کی بار بار مڑ کر دیکھتے تھے۔جب آپ نے بار بار پیچھے دیکھا تو حضرت ہاجرہ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ آپ کسی معمولی کام کے لئے نہیں جا ر ہے بلکہ اس میں کوئی راز ہے۔حضرت ہاجرہ آپ کی کے پیچھے گئیں اور کہا ابراہیم ! کیا ہمیں یہاں اکیلے چھوڑے جا رہے ہو؟ آپ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔حضرت ہاجرہ آپ کے پیچھے پیچھے کچھ دُور تک چلتی گئیں اور بار بار یہ کہتی تھیں کہ کیا تجھ تم ہمیں یہاں چھوڑ کر جا رہے ہو؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔حضرت ہاجرہ سمجھ گئیں کہ وقت اور درد کی وجہ سے آپ کوئی جواب نہیں دیتے۔آخر حضرت ہاجرہ کی نے کہا۔ابراہیم ! تم کس کے حکم سے ہمیں یہاں چھوڑ کر چلے ہو؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے منہ سے کچھ نہیں کہا کیونکہ محبت کے جذبات کی وجہ سے آپ بول نہیں سکتے تھے آپ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔تب حضرت ہاجرہ نے کہا اذالا يُضَيِّعُنَا۔اگر تم ہمیں خدا تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے یہاں چھوڑ کر جارہے ہو تو فکر کی کوئی بات نہیں۔جس خدا نے تمہیں ہم کو یہاں چھوڑنے کا حکم دیا ہے وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔یہ کہہ کر آپ واپس چلی گئیں لیکن مشکیزہ میں جو پانی تھا اور تھیلی میں جو کھجوریں تھی وہ آخر چند دن ہی چل سکتی تھیں۔جب یہ چیز میں ختم ہو گئیں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ستانا شروع کیا کہ مجھے کھانا دو، مجھے پانی دو، وہاں پانی کہاں تھا سینکڑوں میل تک کوئی آبادی نہیں تھی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے شدت پیاس کی وجہ سے بیہوش ہونا شروع کیا۔آپ روتے تھے اور پانی مانگتے تھے۔پھر کچھ دیر کے بعد غشی طاری ہو جاتی تھی۔پھر ہوش آتی تو پانی مانگتے۔پھر غشی طاری ہو جاتی۔ماں نے جب اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھی