انوارالعلوم (جلد 21) — Page 611
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۱ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک رؤیا دکھایا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔آپ کے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے کیونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام آپ سے ۱۲ سال بعد پیدا ہوئے اور اس ۱۲ سال کے عرصہ تک حضرت اسمعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے بیٹے تھے۔ابھی حضرت اسماعیل علیہ السلام سات آٹھ سال کے تھے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنی رؤیا سنائی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں۔اُس وقت انسان کی قربانی کی جاتی تھی ، لوگ بتوں کو خوش کرنے کیلئے انسان کو اور خصوصاً اپنے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ لوگوں میں انسانی قربانی کا رواج ہے تو آپ سمجھے کہ اِس رؤیا سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کروں۔آپ نے اس کا حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ذکر کیا اور جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا آپ نے جو دیکھا ہے اُس کو پورا کیجئے میں صبر کرتا ہوں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو جنگل میں لے گئے تا اُن کی والدہ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو الٹا لٹا دیا تا اُن کی تکلیف کو دیکھ کر دہشت پیدا نہ ہو۔جب آپ ذبح کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام کیا کہ قد صدقت الدنیا سے جب تو اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے پر تیار ہو گیا ہے تو تو اپنی رؤیا کو پورا کر چکا یعنی اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر عملاً تجھے اپنا اکلوتا بیٹا ذبح کرنا پڑے تو تو اُسے ذبح کر سکتا ہے مگر اب اس کی ضرورت نہیں کیونکہ آئندہ سچے دین میں انسان کے ذبح کرنے کا طریق جاری نہیں رہے گا۔یہ طریق چونکہ درست نہیں تھا اس کی لئے آج سے اسے مٹایا جاتا ہے۔لیکن در حقیقت یہ رویا جو دکھائی گئی تھی اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک ایسی جگہ چھوڑ آئیں گے جس کو مقام محمدی کے لئے چنا گیا ہے چنانچہ آپ کو کچھ دیر کے بعد دوبارہ الہام ہوا کہ حضرت ہاجرہ اور اس کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کے مقام پر لے جاؤ۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کے مقام پر لے گئے۔مکہ کے اردگر دکئی میل