انوارالعلوم (جلد 21) — Page 603
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۰۳ کوشش کرو کہ تمہاری اگلی نسل پچھلی نسل سے زیادہ اچھی ہو کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔جیسے افغانستان میں ہمارے پانچ آدمیوں پر ابتلا ء آیا اور انہوں نے اپنی جانیں پیش کر دیں۔امیر عبدالرحمن کے زمانہ میں عبدالرحمان خان صاحب پر ابتلاء آیا اور وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ میں صاحب زادہ سید عبد الطیف صاحب پر ابتلاء آیا اور وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔امیر امان اللہ خان کے زمانہ میں نعمت اللہ خان صاحب اور ان کے دو ساتھیوں پر ابتلاء آیا اور وہ تینوں اپنی بات پر ڈٹے رہے۔مگر یہاں پانچ کا سوال نہیں بلکہ اصل دیکھنے والی بات یہ ہے کہ پانچ آدمیوں پر ابتلاء آیا اور پانچ میں سے پانچ ہی اس کے مقابلے میں ڈٹے رہے اور اگر پانچ کے پانچ ڈٹے رہے ہیں تو کی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہاں سو آدمی بھی ہوتا تو وہ سو کا سو ڈٹا رہتا۔اگر ہزار آدمی ہوتا تو ہزار بھی کی ڈٹا رہتا کیونکہ جنتی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ان میں ایک بھی ایسی مثال نہیں کہ کسی کو ایسا ابتلاء پیش آیا ہو جس میں اُس کی جان کا خطرہ ہو اور وہ اپنی بات پر ڈٹا نہ رہا ہو۔تمہیں بھی یہ چیز اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔جب بھی کوئی سچائی دنیا میں آتی ہے اُس کے ماننے والوں کو قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔امیر خسرو کا ایک شعر ہے کہ کشته گان خنجر تسلیم را ہر فرمان از غیب جانے دیگر است یعنی لوگ تو ایک دفعہ مرتے ہیں مگر جو اپنی مرضی خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیتے ہیں ان پر ہر روز نئی موت آیا کرتی ہے کیونکہ ہر موقع پر انہیں خدا تعالیٰ کی آواز پہنچتی رہے گی اور وہ اُس پر لبیک کہتے رہیں گے۔پس اگر تم بھی خدا تعالیٰ کا سچا بندہ بننا چاہتے ہو تو تم اس بات کے لئے اپنے آپ کو تیار کرو بلکہ ایسے موقع پر خوشی کی ایک لہر تمہارے چہروں پر دوڑ جائے اور تم ہر مصیبت کو انعام سمجھ کر قبول کی کرو تم تو ایک سچائی کے ماننے والے ہولیکن بعض دفعہ لوگ اپنے جھوٹے عشق کے لئے بھی یہ نمونہ پیش کر دیتے ہیں۔صلاح الدین ایوبی کے زمانہ میں قرامطہ فرقہ نے بہت طاقت حاصل کر لی تھی۔اُس وقت فرانس کا بادشاہ فلپ نامی تھا اور انگلینڈ کا رچرڈ۔رچرڈ نے صلاح الدین ایوبی سے سمجھوتہ کرنا چاہا۔اس پر فلپ نے خیال کیا کہ اگر رچرڈ نے صلاح الدین ایوبی سے صلح کر لی اور کوئی سمجھوتہ