انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 601

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۰۱ کوشش کرو کہ تمہاری اگلی نسل پچھلی نسل سے زیادہ اچھی ہو اس موقع پر مختلف خیالات کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور ہر مضمون کی نظم وہاں سج جاتی ہے مگر جب طلبہ اور خدام میں نظم نظم پڑھی جاتی ہے تو نظم ان کے مناسب حال پڑھی جانی ضروری ہوتی ہے۔ خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ ہر مجلس میں تعلیم کا ایک سیکرٹری مقرر کریں جس کا ایک کام ، یہ بھی ہو کہ وہ جلسوں کے لئے نظموں اور مضامین کا انتخاب کیا کرے اور یہ مد نظر رکھے کہ نظمیں دعائیہ اور جوش پیدا کرنے والی ہوں ۔ مثلاً پروگرام شروع ہونے سے پہلے کوئی خادم میری ایک نظم پڑھ رہا تھا جس میں نماز جیسے دعائیہ فقرات تھے ۔ اس قسم کی نظم طلبہ اور خدام کیلئے مفید ہو سکتی جوش دلانے کی ہے لیکن ایک عام تصوف کی نظم ان کے لئے زیادہ کارآمد نہیں ہو سکتی اور اس سے جوش دلا غرض بھی حاصل نہیں ہوتی اس لئے آئندہ یہ خیال رکھا جائے کہ ایسے مواقع پر ایسی نظمیں رکھی جائیں جو دعائیہ اور جوش دلانے والی ہوں اور پھر سارے خدام پڑھنے والے کے ساتھ ساتھ اُنہیں دُہراتے چلے جائیں ۔ اس سے طبائع میں جوش پیدا ہوتا ہے اور سننے والے مضمون کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اب تو سننے والے کی صرف اس طرف توجہ ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کی تال اور سر کیا ہے اور اُس کی آواز کیسی ہے۔ آواز اچھی ہو گی تو وہ تعریف کریں گے۔ لیکن اگر سننے والا سمجھتا ہو کہ یہ دعا ہے تو وہ اس کے مفہوم کو جذب کرنے کی کو ب کرنے کی کوشش کرے گا۔ پس آئندہ یہ ہونا چاہئے کہ جب نظم پڑھنے والا نظم پڑھے تو دوسرے بھی اس کے ساتھ شریک ہوں اور ساتھ ساتھ دعائیہ الفاظ کو دہرائیں اس طرح دعا کی عادت بھی پڑے گی اور ذمہ داری اُٹھانے کا احساس بھی پیدا ہوگا ۔ اس کے بعد میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہر چیز کیلئے ایک خاص زمانہ اور ایک خاص وقت ہوتا ہے ۔ کوئی وقت جہاد کا ہوتا ہے، کوئی وقت روزہ کا ہوتا ہے اور کوئی وقت نماز کا ہوتا ہے اور عقل مند وہی ہوتا ہے جو جہاد کے وقت جہاد کرے اور نماز کے وقت نماز پڑھے اور روزہ کے وقت روزہ رکھے ۔ یہ نہیں کہ وہ باقی چیزوں کو چھوڑ دے لیکن اُس خاص وقت میں اُسی چیز پر زور دے جس کیلئے وہ وقت مخصوص ہے۔ قرآن کریم میں خدا تعالی بعض گناہوں کو کبیرہ قرار دیتا ہے اور بعض کو صغیرہ ۔ صوفیاء کرام نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس گناہ میں کوئی انسان مبتلاء ہو وہی اُس کیلئے کبیرہ گناہ