انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 591

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۹۱ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کو ممتاز اور نمایاں فرق رکھنے والی بات ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنی اور غیر تعلیم یافتہ شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ اصل مقام یہی ہے کہ انسان خود اپنی نیکیوں کی وجہ سے اعلیٰ مقام حاصل کرے نہ کہ دوسرے کے طفیل ادنیٰ مقام سے ترقی کر کے اعلیٰ مقام تک پہنچے۔پس تمہیں کوشش کرنی چاہئے کہ تم اپنے خاوندوں یا رشتہ داروں کی وجہ سے جنت کا اعلیٰ مقام حاصل نہ کرو بلکہ تمہاری وجہ سے تمہارے رشتہ داروں کو اعلیٰ مقام حاصل ہو۔بے شک انسان خواہ ادنیٰ مقام والا ہو یا اعلی مقام والا۔آپس کی رشتہ داری کی وجہ سے جنت میں ایک ہی مقام پر رکھے جائیں گے مگر دونوں کی کی حیثیتوں میں بڑا فرق ہوگا۔ایک بنیے کی عورت جو سونے سے لدی ہوتی ہے اور جس کے کان بندوں کے بوجھ سے ک رہے ہوتے ہیں کیا اُس کی بھی وہی حیثیت ہوتی ہے جو مارکیٹ میں ایک بنیے کو حاصل ہوتی ہے؟ وہ بنیا جب بولتا ہے تو ساری دنیا کان لگا کر سنتی ہے کہ لالہ جی کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ اُس کی وجہ سے چیزوں کے بھاؤ میں اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے لیکن اُس کی عورت باوجود اس کے کہ سونے کے زیورات سے بھری ہوئی ہوتی ہے تجارتی حلقوں میں وہ عزت نہیں رکھتی جو اُس کے خاوند کو حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح بادشاہ کی بیوی ملکہ کہلاتی ہے اور وہ جہاں جاتی ہے لوگ اس کا استقبال کرتے ہیں لیکن بادشاہ کی خدمات کی وجہ سے جو عزت اُس کی ہوتی ہے وہ اُس کی بیوی کی نہیں ہوتی۔لوگ اُس کا ادب بھی کرتے ہیں، اُس کی عزت بھی کرتے ہیں کیونکہ وہ بادشاہ کی بیوی ہوتی ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ ضرورت کے موقع پر وہ اُس سے مشورہ لینے چلے جائیں اُس کی عزت محض طفیلی ہوتی ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فوقیت کی حاصل ہے وہ آپ کے صحابہ یا آپ کی بیویوں کو حاصل نہیں تھی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے براہ راست بھی دین کے سمجھنے کی کوشش کی اور اس وجہ سے ہمارے دل میں اُن کا بڑا احترام ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تم آدھا دین عائشہ سے سیکھو یہ کتنا بڑا درجہ ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا کو حاصل تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدھا دین تو تم مردوں سے سیکھو لیکن آدھا دین عائشہ سے سیکھو۔بیشک عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر نہیں تھیں بلکہ موسیٰ اور عیسی کے مقام پر بھی نہیں تھیں مگر یہ