انوارالعلوم (جلد 21) — Page 590
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۹۰ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرو ہوگی ، صدقہ وخیرات کو لے لو کو تو اس میں کم ہوگی ، روزہ کو لے لو تو اس کی طرف کم توجہ ہوگی ، حالانکہ دین جس طرح مردوں کے لئے ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہے۔ جب تم دینی مسائل پر عمل کرنے میں مردوں کے دوش بدوش چلو گی اور جب تم دین کا اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھو گی جیسے مرد اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں تب تم صحیح معنوں میں جنت کی حقدار بن سکتی ہوا اور تب خدا بھی کہے گا کہ میری جنت کے مستحق جس طرح مرد ہیں اسی طرح عورتیں بھی اس کی مستحق ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر مرد جنت کے اعلیٰ مقام پر ہوگا اور عورت کسی نچلے مقام پر ہوگی تو عورت بھی اس کے پاس رکھی جائے گی ۔ اسی طرح اگر عورت اعلیٰ مقام پر ہوگی اور اسکا خاوند ادنی مقام پر ہوگا تو عورت کی وجہ سے اس کے خاوند کو بھی اونچے مقام پر لے جایا جائے گا مگر یہ محض طفیلی مقام ہوگا اور طفیلی مقام کے متعلق شیخ سعدی کا یہ شعر مشہور ہے کہ: حقا که با عقوبت دوزخ برابر است رفتن بپائے مردکی ہمسایہ بہشت در یعنی اپنے ہمسایہ کی کوشش یا اُس کے توسط سے جنت میں جانا تو دوزخ میں جانے سے بھی بدتر ہے اور میں اس کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ اپنے ہمسایہ کا زیرا احسان ہو کر جنت میں جاؤں ۔ پس عورت کے لئے یہ ہرگز کافی نہیں کہ وہ صرف اس بات پر بھروسہ کر کے بیٹھ رہے کہ میں اپنے خاوند یا اپنے باپ یا اپنے بھائی کی مدد سے جنت میں چلی جاؤں گی ۔ اسے کوشش کرنی چاہئے کہ وہ خود اعلیٰ مقام حاصل کرے تاکہ اور رشتہ دار اس کے واسطہ سے اونچے مقام پر پہنچیں ۔ اور خود غور کر کے دیکھ لو کہ ان دونوں میں سے کونسا بہتر مقام ہے ۔ آیا یہ بہتر ہے کہ تم دوسروں کے طفیل جنت کا اعلیٰ مقام حاصل کرو یا یہ بہتر ہے کہ تمہاری وجہ سے دوسروں کو جنت کا اعلیٰ مقام حاصل ہو۔ اگر تم دوسروں کے طفیل جنت کے کسی اعلیٰ مقام پر پہنچتی ہو تو تمہاری آنکھیں ہمیشہ نیچی رہیں گی اور تم سمجھو گی کہ میں اس مقام پر اپنے حق کی وجہ سے نہیں آئی بلکہ دوسرے کی وجہ سے آئی ہوں ۔ لیکن اگر تم اپنی جد و جہد اور کوشش سے اعلیٰ مقام حاصل کر لو تو تمہاری آنکھیں اونچی ہوں گی اور تم فخر سے یہ کہہ سکو گی کہ میری وجہ سے فلاں فلاں رشتہ دار اس مقام تک پہنچے ہیں ۔ یہ اتنا