انوارالعلوم (جلد 21) — Page 26
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۶ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء چھوٹا بھائی مبارک احمد بھی بیٹھا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبارک احمد سے بے حد پیار تھا بلکہ آپ کا پیار عشق کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹہلتے بھی جاتے تھے اور لکھ بھی رہے تھے میں بھی پاس کھڑا تھا میں نے دیکھا کہ جیسے جیل جھپٹا مارتی ہے آپ کو دکر اُس کمرہ میں گئے اور مبارک احمد کو ایسا تھپڑ مارا کہ اُس کے منہ پر سرخ نشان پڑ گئے۔میں حیران تھا کہ ہوا کیا؟ ساتھ ہی آپ نے یہ الفاظ کہے تجھے شرم نہیں آتی کہ تم اللہ تعالیٰ کے کلام کی بے حرمتی کرتے ہو! بعد میں میں نے والدہ صاحبہ سے پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ مبارک احمد کوئی چیز مانگ رہا تھا میں نے کہا کہ تلاوت کے بعد میں تمہیں وہ چیز دوں گی۔اس کی پر اُس نے رحل کو دھکا دیا اور کہا یہ چھوڑ دو اور مجھے وہ چیز دو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہ سنتے ہی کو دکر اندر آئے اور ایسے زور کے ساتھ اُسے تھپڑا مارا کہ اس کے منہ پر نشان پڑ گئے۔حالانکہ مبارک احمد اُس وقت ایک چھوٹا بچہ تھا اور آپ اس سے حد درجہ پیار کرتے تھے اب کوئی شخص خواہ کتنی دلیلیں دے خواہ دس کروڑ دلیلیں دے اور کہے کہ آپ کو قرآن کریم سے عشق نہیں تھا تو ہم پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔جس نے وہ نظارہ دیکھا ہے۔جس نے آپ کی وہ غیرت کی اور وہ جوش دیکھا ہے کیا وہ ایک لمحہ کیلئے بھی مان سکتا ہے کہ آپ کے دل میں اسلام کی کوئی غیرت نہیں تھی ، قرآن کریم کی کوئی غیرت نہیں تھی یا آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو محبت آپ کو تھی اس کا اندازہ مرزا سلطان احمد صاحب کے ایک واقعہ سے بھی ہو سکتا ہے۔مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ پر ایمان نہیں لائے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد انبیاء کی ہتک کے متعلق جب قانون پاس ہوا اُن دنوں میں اُن کی عیادت کے لئے گیا وہ اُن دنوں بیمار تھے۔مجھے دیکھتے ہی اُنہوں نے کہا۔بڑا شکر ہے کہ مرزا صاحب فوت ہو گئے۔مجھے اس بات پر سخت غصہ آیا کیونکہ وہ احمدی نہ ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب اور احترام نہیں کرتے تھے۔مگر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے آج اگر مرزا صاحب زندہ ہوتے تو وہ ضرور قید ہو جاتے کیونکہ ان کے سامنے اگر کوئی شخص محمد رسول اللہ