انوارالعلوم (جلد 21) — Page 581
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۱ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی کو اس لئے میں دوبارہ ان سے قرض کا تقاضا کرتا ہوں چنانچہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ یہودی آپ کے پاس آیا اور اُس نے کہا آپ نے مجھ سے اتنا قرض لیا تھا مگر ابھی تک آپ نے ادا نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا تو خیال ہے کہ میں ادا کر چکا ہوں۔اس نے کہا بالکل غلط ہے آپ نے ہرگز رو پید ادا نہیں کیا۔آپ نے پھر فرمایا کہ میں ادا کر چکا ہوں۔پھر آپ نے مجلس والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کسی کو یاد پڑتا ہو کہ میں نے یہ قرض ادا کر دیا ہے تو وہ بتائے۔اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! میں گواہ ہوں میرے سامنے آپ نے اس یہودی کو قرض ادا کر دیا تھا اور اب یہ بالکل جھوٹ بولتا ہے۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں قرض ادا کر چکے تھے اور یہودی بھی اس بات کو جانتا تھا جب اس صحابی نے اُٹھ کر گواہی پیش کر دی تو کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ کہنے لگا مجھے یاد آ گیا ہے فلاں موقع پر آپ نے قرض ادا کر دیا تھا۔جب وہ واپس چلا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا یہ بات تو ٹھیک ہے کہ میں نے قرض ادا کر دیا تھا تو اور وہ یہودی بھی مان گیا ہے مگر جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تم اس موقع پر موجود نہیں تھے تم نے کی یہ کس طرح گواہی دے دی۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! جانے بھی دیجئے ہم رات اور دن آپ کو سچ بولتے ہوئے دیکھتے ہیں، آپ خدا کی باتیں بتاتے ہیں تو ہم مانتے ہیں، دین کی باتیں بتاتے ہیں تو ہم مانتے ہیں پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس موقع پر یہ خیال کر لیتے کہ آپ نَعُوذُ بِاللهِ سچ نہیں بول رہے۔بے شک میں اُس موقع پر موجود نہیں تھا اور میرے سامنے آپ نے قرض نہیں دیا مگر جب آپ کہتے ہیں کہ میں نے قرض دے دیا تھا تو یقیناً آپ سچ فرماتے ہیں اور ہم اس کی سچائی کے گواہ ہیں کیونکہ ہم رات اور دن آپ کو سچ بولتے ہوئے دیکھتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو آپ ہنس پڑے اور خاموشی ہو گئے۔اب دیکھو یہ کتنے یقین کی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بات کہتے ہیں اور وہ صحابی باوجود اس کے کہ موقع پر موجود نہیں تھے پھر بھی گواہی کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص رات اور دن سچ بولتا ہے وہ اس موقع پر بھی سچی بات ہی کہہ رہا ہے