انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 580

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۸۰ صحابیات کے نمونہ پر چلنے کی ایسی بات کہے تو کیا مان لوگی کہ واقعہ میں ہاتھی کھڑے ہیں؟ تم فوراً کہوگی کہ جلسہ گاہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اگر ہاتھی ہوتے تو ہمیں نظر نہ آ جاتے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر انہیں اتنا یقین تھا کہ باوجود اس کے کہ یہ ناممکن بات تھی انہوں نے کہا ہاں اگر آپ کہیں گے تو ہم ضرور مان لیں گے کیونکہ آپ اتنے بڑے نیچے انسان ہیں کہ ہمارے واہمہ وخیال میں بھی یہ نہیں آسکتا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا اچھا اگر یہ بات ہے تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس وقت اسلام کو اپنا دین مقرر فرمایا ہے وہ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ ہے اور بتوں کے اندر کسی قسم کی طاقت نہیں اور اُس نے مجھے تمہاری اصلاح کے لئے مامور کے طور پر مبعوث فرمایا ہے۔اس پر انہوں نے فوراً شور مچا دیا کہ یہ شخص پاگل ہو گیا ہے ، اس کا دماغ پھر گیا ہے اور ہمیں بتوں سے منحرف کرنا چاہتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ ، أَفَلَا تَعْقِلُون کے اے دشمنو! تم اتنا تو سوچو کہ تم میں میرے عزیز اور رشتہ دار موجود ہیں، میرے چچازاد بھائی تم میں ہیں، میرے ماموں زاد بھائی تم میں ہیں ، ان کے لڑکے اور لڑکیاں بھی موجود ہیں اسی طرح دور اور نزدیک کے اور کئی رشتہ دارتم میں پائے جاتے ہیں اور پھر ساری عمر میں تم میں ہی رہا ہوں کیا تم اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں سچ کہتا ہوں۔تم اگر میری تکذیب میں صداقت پر قائم ہو تو تم بتاؤ کہ کیا میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے۔اگر میں کہیں باہر رہتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ ہمیں کیا پتہ تم نے کیسی زندگی بسر کی ہے لیکن ساری عمر تم میں رہا ہوں اور تم جانتے ہو کہ میں نے آج تک جھوٹ نہیں بولا پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ اب میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔یہ دلیل ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کی قرآن کریم نے پیش کی ہے اتنی زبر دست ہے کہ انسان کا دل اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ایک دفعہ ایک یہودی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قرض لیا جو چند دنوں کے بعد آپ نے واپس کر دیا۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس یہودی کو خیال آیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سادہ آدمی ہیں وہ بھول چکے ہوں گے کہ انہوں نے قرض ادا کر دیا ہے یا نہیں