انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 549

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۴۹ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب ساتواں اوتار تھا۔اسی طرح بعض مسلمانوں نے پہلے تو کچھ کمیونزم کا مقابلہ کیا مگر آخر تنگ آکر کہہ دیا کہ کمیونزم عین اسلام ہے۔مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کمیونزم کو بھی اسلام کے خلاف ثابت کریں اور پھر لوگوں کو یہ بھی بتائیں کہ اسلام دُنیا کی بھوک کا کیا علاج کرتا ہے۔روٹی کا سوال اس وقت ساری دنیا پر چھایا ہوا ہے اور اس سوال پر تم بھی کئی بار بخشیں کرتے ہو۔آخر تم کہتے ہو یا نہیں کہ ہمیں کیا گزارہ ملے گا ؟ ہمارے بیوی بچوں کو کیا ملے گا ؟ ہم باہر گئے تو ہمیں کتنا روپیہ بجھوایا جائے گا اور ہمارے بیوی بچوں کو کتنا دیا جائیگا ؟ یہ سوالات اگر ی تمہارے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں تو اور لوگ ان پر کیوں بحث نہ کریں۔مگر ہمارے علماء کا کی ایک طبقہ ان باتوں سے غافل ہے۔وہ ضرورت ہی نہیں سمجھتا کہ اس بات پر غور کرے کہ کمیونزم کے خطرہ کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے اور کس طرح اسلام پر قائم رہتے ہوئے اس کو رڈ کیا تھ جاسکتا ہے۔اور لوگ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر کمیونزم ہم میں آ بھی گیا تو کیا ہوا ہم خدا اور اس کی کے رسول کو مانتے ہوئے کمیونسٹ ہو جائیں گے مذہب اس میں روک ہی نہیں۔وہ کبھی خیال ہی تی نہیں کرتے کہ بعض روئیں لازمی طور پر کسی دوسرے خیالات کو ر ڈ کر دیتی ہیں اور سٹالن کے پیچھے اُسی وقت چل سکتے ہیں جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر دیں۔بے شک وہ کہتے ہیں کہ ہم باخدا کمیونسٹ ہو جائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ باخدا کمیونسٹ ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں ہوسکتا تو وہ ہونگے کس طرح؟ یہ تو ویسی ہی احمقانہ بات ہے جیسے ملکہ فرانس کا قصہ مشہور ہے کہ وہ ایک دفعہ شکار سے واپس آرہی تھی کہ اُس نے دیکھا کہ اُس کے قلعہ کے پاس ہزاروں ہزار لوگ جمع ہیں اور وہ روٹی روٹی کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔اس نے اپنے ماتحت افسران سے پوچھا کہ یہ لوگ کیوں جمع ہیں اور روٹی روٹی کیا نعرہ لگا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کھانے کو کچھ نہیں ملتا ، ہمارے ملک میں قحط پڑا ہوا ہے ہمیں روٹی دی جائے تا کہ ہمارا پیٹ بھرے۔اس پر وہ بے ساختہ کہنے لگی یہ لوگ بڑے بے وقوف ہیں اگر بھو کے ہیں تو کیک کیوں نہیں کھا لیتے۔چونکہ اُس کے اپنے گھر میں ہر چیز کی فراوانی تھی وہ یہ بجھتی تھی کہ اتنی چیزیں تو ہر شخص کے گھر میں موجود ہونگی۔یہی احمقانہ حالت بعض مسلمانوں کی ہے۔وہ کہتے