انوارالعلوم (جلد 21) — Page 547
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۴۷ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب کے ماتحت اُس نے لکھا کہ جرمن قوم کی ترقی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اس کی بیس (BASE) مضبوط ہو پھر وہ جتنا پھیلے گی اُتنی ہی مضبوط ہوگی لیکن اگر ہیں (BASE ) مضبوط نہیں ہوگی تو اس کا پھیلاؤ اُس کے تنزل کا موجب بن جائے گا۔یہ ایک دُنیوی مثال ہے مگر الہی سلسلے بھی اس قانون سے مستثنی نہیں ہیں۔اس وقت حالت یہ ہے کہ بیرونی جماعتوں کو ہم پوری طرح سنبھال نہیں سکتے۔ہمارے آفس اُن کی پوری طرح نگرانی نہیں کر سکتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے نظم میں فرق آ جاتا ہے اور بعض دفعہ ان کی طرف سے احکام کی پوری فرمانبرداری نہیں ہوتی یا فرمانبرداری تو ہوتی ہے مگر ناقص ہوتی ہے، اس طرح بعض دفعہ ترقی کے مواقع نکلتے ہیں تو ہم ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔مثلاً کسی جگہ سو یا پچاس مبلغوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہم بجھوا نہیں سکتے۔یا مبلغ تو ہوتا ہے مگر لٹریچر کی اشاعت اور سفروں وغیرہ کے لئے اس کے پاس روپیہ نہیں ہوتا۔مثلاً امریکہ میں ہی اگر ہم دس مبلغ رکھیں تو چونکہ وہ بہت مہنگا ملک ہے ان کے آنے جانے کے اخراجات ، وہاں کی رہائش کے اخراجات اور سفروں اور لٹریچر وغیرہ کے لئے ہی دولاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے مگر ہمارے پاس اتنا روپیہ نہیں۔اور اگر ہم اتنا روپیہ صرف ایک مشن کو دے دیں تو باقی سب کام بند ہو جائیں گے۔یا فرض کرو کسی غیر ملک میں ہم دینیات کا سکول نہیں کھول سکتے تو کم از کم ای ہمارے پاس اتنار و پیہ تو ہونا چاہئے کہ ہم وہاں سے لوگوں کو بلا کر تعلیم دے سکیں اور اگر ہم ایسا کی نہیں کر سکتے تو لازماً ہماری ترقی میں نقص واقع ہو جائیگا۔غرض ہمارے مشنوں کی وسعت ہمارے لئے ایک رنگ میں کمزوری کا موجب بن رہی ہے اس کمزوری کو دور کرنے کا طریق یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان میں جماعت کو بڑھایا جائے اور تبلیغ کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کی جائے اور ایسے مبلغین پیدا کئے جائیں جو موجودہ ضرورتوں کو سمجھنے والے اور نئے زاویوں اور نئے نقطۂ نگاہ سے موجودہ مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ہوں۔اب زمانہ بدل چکا ہے، خیالات تبدیل ہو چکے ہیں، نئی پود نئے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کی عادی ہے، وہ نئے انداز اور نئے پہلوؤں سے مسائل پر غور وفکر کرتی ہے مگر ہمارے بعض علماء۔