انوارالعلوم (جلد 21) — Page 537
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۳۷ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات - بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب ( فرموده ۸ مئی۱۹۵۰ ءاحاطه جامعته المبشرين ربوه) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ’ہمارے ہاں ایسے مواقع پر عموماً تین تقریروں کا رواج ہے۔ایک تقریر دائی جماعتوں یا چھ داعی جماعت کی طرف سے ہوتی ہے۔دوسری تقریر آنے والے صاحب کی طرف سے ہوتی ہے اور تیسری تقریر سے متعلق مجھ سے امید کی جاتی ہے کہ میں آخر میں اپنے خیالات کا اظہار کروں لیکن آج چونکہ میں ہی داعی ہوں اور پہلے اور پیچھے کی تقریریں کچھ بے معنی سی ہو کر رہ جاتی ہیں اور پھر مدعووین اتنے ہیں کہ ایک ہی قسم کے خیالات کے تکرار سے بدمزگی پیدا ہونے کا احتمال ہوسکتا ہے اس لئے اس عام طریق کے خلاف میں نے یہی پسند کیا کہ صرف میں ہی اپنے خیالات کو ظاہر کر دوں۔جہاں تک دعوت کرنے والوں کا یہ طریق ہے کہ وہ آنے والے کو خوش آمدید کہتے ہیں یا جہاں تک آنے والوں کا یہ طریق ہے کہ وہ دعوت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں یہ محض کی ایک رسمی بات ہے۔یہ صاف بات ہے کہ دعوت کرنے والا تبھی دعوت کرے گا جب وہ خوش ہوگا اگر وہ خوش نہیں ہو گا تو دعوت کیوں کرے گا۔پھر یہ بھی صاف بات ہے کہ جب کوئی شخص دعوت کرے گا تو کھانے پینے کی چیزیں بھی رکھے گا اور دوسرا شخص بہر حال ممنون ہوگا۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص دعوت کرے اور دوسرا شکر یہ بھی ادا نہ کرے۔پس یہ طبعی تقاضے ہیں جن کو کی قدرتی طور پر انسان ہمیشہ ظاہر کرتا رہتا ہے لیکن ہم جب اس قسم کی تقاریب میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں تو ہماری کچھ اور غرض ہوتی ہے اور وہ غرض یہ ہے کہ ایسے مواقع پر جب آنے