انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 19

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۹ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء ربوہ میں مکانات بنوانے کے متعلق بعض ) بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس کی مدت بہت کم رکھی گئی ہے۔ اخبار الفضل میں اس کے متعلق اعلان ہونے پر مختلف لوگوں کی طرف سے مختلف قسم کے سوالات کئے گئے ہیں ۔ جن کے جوابات بھی دیئے گئے تھے لیکن میں چاہتا ہوں کہ اُن کے متعلق پھر کچھ کہہ دوں ۔ قریب میں ہی مجھے ایک رؤیا ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو بہت سے لوگوں کے دلوں میں ابھی تک قائم ہے۔ دو تین دن کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ کوئی دوست آئے ہیں اُس وقت میری جیب میں بہت سی قلمیں ہیں جن میں سے کچھ کانے کی ہیں اور کچھ فاؤنٹین پن ہیں ۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اُس دوست کو تبرک کے طور پر کچھ دوں ۔ چنانچہ میں نے چاہا کہ کانے کی خوبصورت قلمیں جو میری جیب میں ہیں اُن میں سے کچھ اُسے بطور تبرک کے دے دوں ۔ میں نے جب انہیں جیب میں سے نکال کر دیکھا تو وہ ٹوٹی ہوئی تھیں ۔ میں اپنے ذہن میں یہ خیال کرتا ہوں کہ اُسے صرف بطور تبرک کے کچھ چاہئے اور جو چیز بطور تبرک دی جاتی ہے اس کے لئے صرف یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ جسم کے ساتھ چھوٹی ہوئی ہو یا کچھ عرصہ ساتھ رہی ہو ۔ اس کا سلامت ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ چنانچہ میں نے کہا کہ یہی بطور تبرک دے دیتا ہوں ۔ ان لوگوں میں جو میرے سامنے کھڑے ہوئے ا ڈاکٹر عبد الحق صا صاحب ڈینٹسٹ (DENTIST) بھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ نے ربوہ میں مکانات بنانے کے لئے جو شرط لگا دی ہے کہ دو ماہ کے اندر اندر بنائے جائیں اس پر کیسے عمل ہو سکتا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اخبار میں چھ ماہ کے اندر مکان تعمیر کرنے کا اعلان ہوا تھا مگر ہو سکتا ہے کہ کہیں دو ماہ بھی لکھا گیا ہو۔ مجھ سے بعض لوگوں نے بیداری میں بھی دو ماہ کی ہی مدت کا ذکر کیا ہے بہر حال ڈاکٹر صاحب خواب میں مجھ سے یہی کہتے ہیں ۔ میں انہیں کہتا ہوں اصل چیز تو یہ ہے کہ ہمیں مکان بنانے کی نیت کر لینی چاہئے ۔ پھر اس میں جو مشکلات پیش آئیں گی وہ سب کیلئے ہونگی ۔ چھ ماہ کی مدت تو اس لئے رکھی گئی ہے تا جماعت کے اندر ایک بیداری پیدا ہو جائے اور وہاں جلد آبادی ہو جائے ۔ اس خیال کی وجہ سے کہ کوئی شخص اس عرصہ میں مکان کیسے تعمیر کرے گا ربوہ میں زمین خریدنے سے اُسے نہیں رکنا چاہئے ۔ اس رویا سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیں ڈا