انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 513

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱۳ اسلام اور ملکیت زمین مال چھین کر اُس کے اخلاق کو اور بھی بگاڑا جائے۔اُسے ترکاری بونے ،شہد کی مکھیاں پالنے، جانور رکھنے اور اُن کے دُودھ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔یورپ کا زمیندار دودھ بلوتا ہے نہ کہ دہی اور یا تو اُس کی بالائی فروخت کر دیتا ہے یا اُس کی بالا ئی سے مکھن بناتا ہے۔لیکن ہمارا زمیندار دودھ کو کاڑھتا ہے ، پھر اُس سے دہی جماتا ہے، پھر اُس کو بلوتا ہے اور بہت سا وقت اپنی بیوی کا اُس میں خرچ کروا دیتا ہے۔اسی طرح وہ کھا د جو خدا تعالیٰ نے اُس کے لئے پیداوار کا ذریعہ بنائی ہے اُسے ایندھن کے طور پر خرچ کر لیتا ہے۔گورنمنٹ کے آفیسر اُس کے سامنے لیکچر دیتے ہیں کہ اس کھاد کو استعمال نہ کرو یہ قیمتی چیز ہے لیکن وہ کبھی اس پر غور نہیں کرتے کہ کوئی ایسی باقاعدہ جدو جہد کی جائے کہ جس سے زمیندار کو اپنے گھر کی ضرورتوں کے لئے لکڑی آسانی سے مہیا ہو جائے۔میرے خیال میں وہ جائز ضرورتیں جن کے ماتحت حکومت جبر کر سکتی ہے خواہ عدالت کے ذریعہ سے ہی کیوں نہ ہو اُن میں سے ایک یہ ہے کہ دو تین گاؤں جن کی سرحدات ملتی ہوں اُن کی میں ایک رقبہ چن کر ایک سوختنی اور تعمیری لکڑی کے درختوں کا ذخیرہ بنایا جائے۔یا اگر اس میں وقت ہو تو ایک ایک گاؤں میں ایسا ذخیرہ بنا دیا جائے تا ایسے قواعد کے ماتحت جو تجویز کئے جا سکتے ہیں مفت یا معمولی سی قیمت پر لکڑی جلانے اور گھروں اور مکانوں وغیرہ کے استعمال کے لئے مل سکے۔اگر یہ انتظام کیا جائے تو پھر زمیندار کو کھا دسنبھال کر رکھنے کی تلقین جائز بھی ہوسکتی ہے اور شاید وہ کوئی مفید نتیجہ بھی پیدا کرے۔( میں نے حال ہی میں پاکستان حکومت کا ایک اعلان پڑھا ہے کہ ہر زمیندار ہر ایک ایکٹر میں چار درخت لگائے اور اس مقدار کو قائم رکھے اور کی حکومت کی اجازت کے بغیر نہ کاٹے۔یہ ایک اچھا اقدام ہے لیکن یقیناً اس سے وہ نتائج پیدا نہ ہوں گے جو میری تجویز سے پیدا ہوں گے ) یہ تو میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ ایسے کئی ذرائع ہیں جن سے کام لے کر زمیندار کے اندر بیداری پیدا کی جاسکتی ہے اور اُسے محسوس کرایا جاسکتا ہے کہ یہ کام اُس کے فائدہ کا ہے اور یہ کہ اس ذریعہ کو اختیار کئے بغیر وہ کبھی بھی اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔مگر یہ کام ایسا نہیں کہ جو بڑے بڑے محکمے بنا کر کیا جائے۔میری رائے میں ہمارے بہت سے کام اس لئے رہ جاتے ہیں کہ ہم اُن کے لئے بڑے بڑے محکمے بنا دیتے ہیں۔