انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 510

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱۰ اسلام اور ملکیت زمین (۱۱) مقدمہ بازی (۱۲) روپیہ کا بوقت ضرورت مہیا نہ ہوسکنا۔(۱) زمیندارہ طریق میں نقص اب میں باری باری ایک عنوان کو لے کر مختصراً اُس کو بیان کرتا ہوں۔میں سالہا سال سے مغربی ممالک کے زمیندارہ کے متعلق تحقیقات کر رہا ہوں اور وہاں کی پیداوار کے متعلق بھی میں نے کتابیں دیکھی اور پڑھی ہیں اور بحث و مباحثہ اور مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہمارے ملک کے زمیندارانہ تمدن اور مغربی ممالک کے تمدن میں جتنا فرق ہے اُس کا سبب یہ نہیں کہ غیر ملکوں کی پیداوار ہمارے ملک سے بہت زیادہ ہوتی ہے بلکہ یہ ہے کہ غیر ملکی زمیندارا اپنی مملو کہ جائیداد کے ہر حصہ کو ہر طریق سے آمدن پیدا کرنے میں لگاتا ہے جبکہ ہمارا زمیندار ایسا نہیں کرتا۔یہ عجیب بات ہے کہ امریکہ کا زمیندار مزدور سو ڈالر سے ڈیڑھ سو ڈالر تک ماہوار کماتا ہے۔وہاں کی فی ایکڑ پیداوار زیادہ سے زیادہ یہاں سے دگنی فرض کر لینی چاہئے۔پس سوال یہ ہے کہ باوجود اس کے اتنی رقم مزدور کو کس طرح دی جاتی ہے؟ ظاہر ہے کہ یا تو مزدور زیادہ کام کرتا ہے یا پھر کھیتی باڑی کو ایسے طریق پر چلایا جاتا ہے کہ علاوہ کی فصل کی آمدن کے اور آمد نہیں بھی اُس سے حاصل ہوتی ہیں۔اب تک ہمارے ملک کی طرف سے زمیندارہ اصلاحات کے لئے جتنے مشن بھی غیر ممالک کو جاتے ہیں وہ بڑی بڑی انسٹیٹیوٹ اور بڑے بڑے فارموں کو دیکھ کر واپس آجاتے ہیں حالانکہ اصل چیز دیکھنے والی یہ ہے کہ جن کی ملکوں میں زمینیں تھوڑی ہیں الف اُن میں عام طور پر فی کس کتنے ایکٹر زمین زمیندار کے پاس ہے۔اُس ملک کی زمین میں کن کن چیزوں کی کاشت کی جاتی ہے۔ج فی ایکٹر کاشت شدہ اجناس کتنی کتنی پیدا ہوتی ہیں۔, 0 منڈی میں اُن اجناس کی کیا قیمتیں ہیں۔کیا اجناس کی قیمتوں کی میزان اتنی رقم کو پہنچتی ہے جس رقم میں مغربی ممالک کا زمیندار گھرانہ گزارہ کرتا ہے اور کیا وہ میزان ہمارے ملک کی میزان کے مطابق ہے؟ اگر نہیں تو