انوارالعلوم (جلد 21) — Page 504
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۰۴ اسلام اور ملکیت زمین دوم : زمیندار طبقہ کی کوئی نمائندگی حکومت میں باقی نہیں رہے گی کیونکہ زمینداروں میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہوگا جو باوقار زندگی شہر میں بسر کر سکے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ غیر زمیندار زمینداروں کے ووٹ خریدیں گے اور ہمارے ملک کا الیکشن تمسخر بن کر رہ جائے گا اور زمیندار کی کوئی نمائندگی حکومت میں باقی نہیں رہے گی ۔ سوم : یا یہ ہوگا کہ جو حکومت برسراقتدار آئے گی زمیندار کا ووٹ اُس کے قبضہ میں ہوگا اور حکومت جبری کا طریق ہمارے ملک میں رائج ہو جائے گا ۔ مزید خرابی یہ ہوگی کہ کیسی ہی جبری حکومت ہو وہ کبھی نہ کبھی بدلتی ہے۔ جب بھی کوئی نئی حکومت آئے گی اگر زمیندارہ بغاوت کے بغیر وہ آئی تو وہ زمینداروں کو مزید کچلے گی اس لئے کہ وہ پہلی حکومت کی تائید میں تھے حالانکہ اُن کی پہلی تائید جبری ہو گی طوعی نہیں ۔ چہارم: میرے اپنے نزدیک تو اگلی نسل میں ہی زمیندار خود ہی فساد کے لئے کھڑا ہو جائے گا بلکہ شاید اس سے بھی پہلے ۔ میں اگلی نسل اس لئے کہتا ہوں کہ جب زمین تقسیم کر دی گئی تو آئندہ نسل میں زمین کم سے کم دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی اور آدھا آدھا ایکڑ فی کس رہ جائے گی اور زمیندار کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ وہ حکومت کے خلاف سازشوں کو قبول کرنے کے لئے بالکل تیار ہو جائے گا ۔ اگر کہا جائے کہ اب موجودہ حالات میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت والوں نے اپنے اوپر زمین دلانے کی ذمہ داری نہیں لی ہوئی ۔ یہ ذمہ داری انہوں نے قانونِ قدرت پر چھوڑی ہوئی ہے جو کہ طبعی طریقہ ہے ۔ جب ایک دفعہ قانونِ قدرت کی ذمہ داری انہوں نے اپنے اوپر لے لی تو زمیندار ہمیشہ اُن سے مطالبہ کرے گا کہ تم اب اپنی ذمہ داری کو پورا کرو۔ سب سے زیادہ کمیونزم زمیندارہ اصلاح پر زور دیتی ہے اور سب سے زیادہ بغاوت روس میں زمیندار ہی کر رہے ہیں اور اس کی یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اپنے ذمہ ایک ایسی بات لے لی ہے کہ جو خدا تعالیٰ نے کسی کے اختیار میں رکھی ہی نہیں اپنے اختیار میں رکھی ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر ایک بیماری کے متعلق کہتا ہے کہ اس کا کوئی علاج میرے پاس نہیں اس کا علاج خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور پھر وہ کسی ایسے مریض کا علاج کرتا ہے تو مریض سمجھتا ہے کہ ذمہ داری مجھ پر ہے ڈاکٹر پر نہیں ۔ اگر مریض کسی قدر