انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 503

انوار العلوم جلد ۲۱ اسلام اور ملکیت زمین معمول سے چار گنے زیادہ ہے اس لئے اُس پر قیاس کرنا بالکل غلط ہے۔پچھلے ڈیڑھ سال میں مغربی پنجاب میں گندم کی قیمت میں روپے من سے گر کر سات سو روپے من پر آ گئی ہے۔اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ اس سے نصف تک قیمت جائے گی زیادہ نہیں گرے گی (حالانکہ پہلی جنگ عظیم کے بعد گندم کی قیمت ایک روپیہ چار آنے من پر آگئی تھی ) تو بھی موجودہ قیمت بہت گر جائے گی۔اسی طرح اگر کپاس کی قیمت موجودہ سے نصف پر جا کر ٹھہر جائے تو ایک مربع کا مالک ( یعنی چار آدمی کا خاندان سمجھ کر فی فرد چھ ایکڑ نہری زمین کا مالک ) اڑتالیس من کپاس اور ۰ ۸ من گندم کا مالک ہو سکے گا یا آئندہ قیمت کے رُو سے ساڑھے سات سو روپیہ سالانہ کا مالک اس میں سے وہ اوسطاً ڈیڑھ سو روپیہ گورنمنٹ کو خراج دے گا ( سندھ میں اس سے دُگنا ) اور سو روپیہ اُس کے آلات زراعت وغیرہ کے لئے سمجھنے چاہئیں اور سو روپے جانوروں کے اخراجات کے لئے چار سو روپیہ باقی رہ گیا۔گویا ایک مربع کا مالک صرف تینتیس ۳۳ روپیہ مہینہ کمائے گا لیکن چونکہ زائد فصلیں بھی ہوتی ہیں اس لئے ۳۳ کی بجائے یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک مربع کا مالک کوئی ساٹھ روپے ماہوار کمائے گا۔لیکن مجوزہ تقسیم کے بعد جوز مین فی خاندان ملے گی اُس کا مالک صرف پندرہ روپیہ مہینہ کمائے گا۔کیا کوئی شخص یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ اس سے ملک میں امن قائم ہو جائے گا ؟ اس کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ زمینداروں کا کچھ حصہ جو پہلے شورش نہیں کرتا تھا اور اپنے اردگرد کے زمینداروں اور رشتہ داروں کو بھی شورش سے روکتا تھا وہ بھی شورش میں شامل ہو جائے گا۔گورنمنٹ کی لیبر کمیٹیوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پچاس روپے کم سے تی کم ماہوار مزدوری ہونی چاہئے۔کوئی شخص بھی مغربی پنجاب کی زمین کو برابر تقسیم کر کے مجھے بتا دے کہ کیا پچاس روپیہ ماہوار ہر زمیندار کو مل سکے گا ؟ بلکہ میں کہتا ہوں اس آمد کو آدھی کر کے ہی کوئی شخص ثابت کر دے کہ پچیس روپیہ ماہوار ہر زمیندار کومل سکے گا ؟ پس اس تقسیم کی وجہ سے فساد بڑھے گا گھٹے گا نہیں کیونکہ کسانوں میں سے بھی اکثر زمینداروں کے رشتہ دار ہیں۔وہی چھوٹا زمیندار جو آج زمین کی تقسیم کا حامی ہے کل تقسیم ہونے کے بعد وہ اُس زمین کے متعلق تو خوش ہوگا جو اُس کو دوسرے زمیندار سے چھین کر دی جائے گی لیکن دوسرے گاؤں کے اپنے رشتہ دار زمیندار کی تائید میں ایجی ٹیشن کرے گا جس کی زمین چھینی گئی ہوگی۔