انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 501

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۰۱ اسلام اور ملکیت زمین ہو جاتے ہیں لیکن صحیح طریقے اختیار کر کے ہم اس الزام سے بری اور پاک ہو جاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کمیونزم اس اصول سے شروع ہوتی ہے کہ دنیا میں تمام انسان برابر ہیں اس لئے جن کے پاس کچھ زیادہ ہے ان سے چھین کر غریبوں کو دے دینا چاہیے بلکہ اگر موقع ہو تو جن کے پاس پہلے کچھ تھا اُن کے پاس اب کچھ بھی رہنے نہیں دینا چاہیے۔ اس عقیدہ کی بنیاداس بات سے شروع ہوتی ہے کہ کمیونسٹ دنیا کے ذرائع کو محدود قرار دیتا ہے۔ کمیونسٹ اصول سیاسیات میں در حقیقت وہی مقام رکھتا ہے جو حیوانیات میں ضبط تولید اور عِلمُ الاغْذیه کے فلسفوں کو حاصل ہے۔ اِن دونوں قسم کے فلسفیوں کے نزدیک بھی چونکہ انسان دنیا میں زیادہ ہو گئے ہیں اور مقدار پیداوار اس نسبت سے بڑھ نہیں سکتی اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو محدود کریں ۔ کچھ تو شادیاں دیر کے بعد کریں ۔ کچھ ایسے طریقے اختیار کریں کہ اولا د زیادہ پیدا نہ ہو ۔ کمیونزم نے سیاسیات میں اسی فلسفہ کو یہ شکل دے دی ہے کہ چونکہ دنیا کی مقدار آمد کم ہے اور انسان زیادہ ہیں جن کے پاس کچھ زیادہ نظر آتا ہے اُن سے چھین کر اُن لوگوں میں بانٹ دینا چاہئے جن کے پاس روپیہ کم ہے۔ لیکن اسلام نہ ضبط تولید کی تائید میں ہے اور نہ قلتِ پیداوار کی تائید میں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بصراحت اس کو لغو قرار دیا ہے اور قرآن کریم نے اشارۃ القص سے اس کورڈ کیا ہے ۔ بظاہر اس موقع پر بھی اعتراض ہوتا ہے کہ پھر دنیا کیا کرے گی ؟ نسلیں بڑھتی چلی جائیں گی اور غذائیں کم ہوں گی پھر کیا ہوگا ؟ اُس طرح جس طرح ن ؟ کمیونسٹ خیالات سے متاثر انسان کہتا ہے کہ غریب تو مر رہے ہیں تو پھر ہوگا کیا ؟ ان دونوں سوالوں کا جواب قرآن کریم میں بھی موجود ہے اور انسانی تجربہ میں بھی موجود ہے مگر میں اصولی اور تفصیلی بحث اس جگہ پر نہیں کر سکتا کیونکہ میں کمیونزم کے متعلق کتاب نہیں لکھ رہا۔ صرف اتنی بات اس جگہ پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ اگر انسان خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون پر چلے تو خدا تعالیٰ اُس کے لئے ترقی کے نئے راستے کھول دیتا ہے اور یہ کہ دنیا کی بہتری محض قانون کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتی بلکہ انسان کے دماغ کی تربیت کے ذریعہ سے ہو سکتی ہے۔ تجربہ اس اصول کے اعلیٰ ہونے پر شاہد ہے۔ مغرب قانون کے ذریعہ حکومت کر رہا ہے لیکن باوجود اس کے کہ ظاہر میں اُس کی حالت اچھی نظر آتی ہے وہ