انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 493

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹۳ اسلام اور ملکیت زمین کہا۔یمُوسى لَن نَّصْبِرَ عَلى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجُ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِنْ بَقيهَا وَقِناتها و فومِهَا وَعَدَهَا وَ بَصَلِهَا ١١٣ يعنى اے موسیٰ ! یہ جنگل کی کھمبیاں اور بوٹیاں کھانی اور شکاری پرندے پکڑ کر کھانے ہمیں پسند نہیں۔ہمیشہ ایک ہی کھانے پر ہم کب تک صبر کرتے چلے جائیں۔پس تو اپنے ربّ سے کہہ کہ وہ ہمارے لئے وہ چیز میں پیدا کرے جو زمین اُگاتی ہے جیسے سبزی ، لکڑیاں ، کھیرے ، ساگ، گندم دالیں اور پیاز وغیرہ۔تو حضرت موسی علیہ السلام نے کہا آتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ ادْنُ بِالَّذِي هُوَ خَيْرُ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْما سَأَلْتُمْ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الزِّلَةُ : وَالمَسْكَنَةُ، وَبَا و بغضب من الله ۱۱۴ یعنی اے لوگو! کیا تم اچھی چیز کے بدلہ میں ی ادنی چیز لیتے ہو؟ اگر تمہاری ایسی ہی خواہش ہے تو جاؤ کسی شہر میں چلے جاؤ وہاں جو کچھ تم مانگ رہے ہو وہ تمہیں مل جائے گا۔سوان کے اس قول کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن پر ذلت اور مسکینی نازل کی اور خدا تعالیٰ کے غضب نے اُن کے گھروں میں ڈیرے ڈال دیئے۔دیکھو! اس آیت میں ترکاریاں مانگنے کے خلاف کتنی شدت سے غصہ کا اظہار کیا گیا ہے حالانکہ تر کاری بُری چیز تو نہیں اچھی چیز ہے۔خود قرآن شریف نے میووں وغیرہ کی تعریفیں کی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تر کاری پسند تھی۔قرآن شریف میں حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ اُن کے لئے خدا تعالیٰ نے کدو کا درخت اُگایا یعنی وہ اُس کا پانی پی پی کر طاقت حاصل کرتے تھے۔تو جب قرآن شریف اور حدیث میں کئی ترکاریوں کی تعریف آئی ہے اور وہ بھی خدا تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہیں تو اتنا غضب اُن پر کیوں نازل کیا گیا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہودی لوگ اُس وقت دشمنوں سے جنگ کر رہے تھے۔اُن کے قومی حالات کے مناسب حال یہی پیشہ تھا کہ شکار کرتے ، جانور پکڑتے ، خودروسبزیاں کھاتے اور ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہتے۔اگر وہ کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاتے تو لازماً اُن کا سفر و ہیں رُک جاتا اور کی کنعان جانے سے پہلے پہلے ہی وہ ایک چھوٹا سا قبیلہ بن کر اپنے اردگرد کی اقوام میں مدغم ہو جاتے۔یہی بات ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے جس کو بگاڑ کر کچھ کا کچھ کر دیا تج گیا ہے۔ابن تین کا مفہوم بھی یہی ہے کہ زمیندار بوجہ اس کے کہ اپنی جگہوں سے ہل نہیں سکتے