انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 491

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹۱ اسلام اور ملکیت زمین عدوهم فجعلوهم اذلة 109 یعنی اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جب مسلمان زراعت میں مشغول ہو جائیں گے ( صاف ظاہر ہے کہ یہاں صرف کسان مراد نہیں ) اور بیلوں کی دموں کے پیچھے پیچھے چلیں گے اور جہاد کو چھوڑ دیں گے تو اُن پر دشمن لوٹ کر حملہ کرے گا اور اُن کو ذلیل کر دے گا۔اسی طرح اُنہوں نے لکھا ہے کہ ظنوا ان المراد بالتزام الخراج وليس كذلك۔یعنی بعض لوگوں نے اس حدیث کے یہ معنے کئے ہیں کہ زراعت کرنے سے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے کی اور یہ ذلّت ہے۔امام محمد کہتے ہیں یہ ہر گز مراد نہیں بلکہ مراد وہ ہے جو ہم پہلے لکھ آئے ہیں۔شاہ ولی اللہ صاحب بھی اِس بارہ میں یوں فرماتے اعلم ان النبي عل الله بعث بالخلافة العامة وغلبة دينه على سائر الاديان لا يتحقق الا بالجهادو اعداد الاته فاذا تركوا الجهاد واتبعوا اذناب البقر احاطه بهم الذل وغلب عليهم اهل سائر الاديان الله یعنی یا درکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور سارے دینوں پر آپ کے دین کا غلبہ جہاد اور جہاد کے سامانوں کی تیاری کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔پس جب می مسلمانوں نے جہاد چھوڑ دیا اور بیلوں کی ڈموں کے پیچھے چل پڑے ( یعنی کھیتی باڑی کرنے لگے ) تو ذلت نے اُن کو گھیر لیا اور دوسرے دینوں والے لوگ اُن پر غالب آگئے۔عینی شرح بخاری میں بھی اس حدیث کے متعلق یوں لکھا ہے۔هذا لمن يقرب من العدو فانه اذا اشتغل بالحرث لا يشتغل بالفروسية ويتاسد عليه العدو واما غيرهم فالحرث محمود لهم وقال عزوجل واعدوا لهم ماستطعتم الاية وهو لا تقوم الا بالزراعة ومن هو بالثغور او بمقاربة للعدو لا يشتغل بالحرث فعلى المسلمين ان يمدوهم بما يختاجون اليه ۱۱۲ ( جو حنفیوں کی لکھی ہوئی بخاری کی شرح ہے ) یعنی یہ حدیث تمام مسلمانوں کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف اُن مسلمانوں کے لئے ہے جو دشمن کے قریب ہیں کیونکہ اگر وہ کھیتی باڑی میں لگ جائیں تو پھر جنگی فنون کی طرف توجہ نہیں کر سکتے۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن اُن پر دلیر ہو کر حملہ آور ہو جائے گا۔اور جو اُن کے سوا ہیں یعنی اندرونِ ملک کے رہنے والے اُن کے لئے کھیتی ہے اُن کے لئے ایک اعلیٰ درجہ کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ