انوارالعلوم (جلد 21) — Page 490
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۹۰ اسلام اور ملکیت زمین خواہ وہ اپنی زمین کا آپ مالک تھا۔پس اس عبارت سے وہ نتیجہ نکالنا جو نکالا گیا ہے بالکل خلاف واقعہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس عبارت کو سمجھنے کے لئے اس کے پہلے حصہ کا درج کرنا بھی ضروری تھا جس کو رپورٹ لکھنے والے نے حذف کر دیا ہے اور وہ پہلا حصہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات پیشگوئی کے طور پر معلوم ہوتی ہے۔اس حصہ کو اگر رپورٹ لکھنے والے صاحب ساتھ نقل کر دیتے اور یہ حصہ اس کتاب میں موجود ہے جس سے انہوں نے یہ حوالہ نقل کیا ہے تو غالباً اُن پر بھی حقیقت کھل جاتی اور پڑھنے والوں پر بھی حقیقت کی کھل جاتی۔اگر وہ حوالہ پورا نقل کرتے تو ہر شخص یہ سوال کرتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کونسی بات ہے جس کی طرف ابن تین اشارہ کرتے ہیں اور جب وہ بات اس کے سامنے آتی تو ساری حقیقت اُس پر واضح ہو جاتی۔وہ بات جس کی طرف ابن تین نے اشارہ کیا ہے وہ ایک حدیث ہے جو بخاری میں بھی اور بہت سی دوسری کتب احادیث میں بھی درج ہے۔اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:۔عن ابی امامة الباهلي انه راى سكة و شيئا من الة الحرث فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا يدخل هذا بيت قوم الا ادخله الله الذل ١٠٨ یعنی ابی امامته م الباہلی کی نسبت روایت ہے کہ انہوں نے ہل اور زراعت کے آلات میں سے کوئی اور آلہ دیکھا گی تو فرمایا میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ چیز یعنی زراعت کا آلہ کسی قوم میں داخل نہیں ہوتا کہ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اُس کے گھر میں ذلت نہ داخل کر دیتا ہو۔ابن تین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور فرماتے ہی ہیں کہ یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً بطور پیشگوئی کے فرمائی تھی کیونکہ زمینداروں پر (جس میں زمیندار اور کاشتکار دونوں شامل ہیں نہ کہ صرف کا شتکار ) اس زمانہ میں سب سے زیادہ ظلم ہوتا ہے۔ابن تین کی بات کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے میں خود اس حدیث کے متعلق ائمہ اہلحدیث کے اقوال درج کرتا ہوں۔امام محمد مبسوط میں فرماتے ہیں۔مراد الحدیث ان المسلمين اذا اشتغلوا بالزراعة واتبعوا اذناب البقر وقعدوا عن الجهاد كر عليهم