انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 476

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷۶ اسلام اور ملکیت زمین ہندوستان کی زمینوں پر عشر ہے یا نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ از روئے اسلام زمینیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک عشری اور ایک خراجی ۔ عُشر چونکہ زکوۃ کا قائم مقام ہے اس لئے ائمہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عشر صرف ان زمینوں کے لئے ہے جن کے مالک مسلمان ہو جائیں کیونکہ زکوۃ صرف مسلمان سے لی جاسکتی ہے ۔ آگے خراجی زمین کے متعلق پھر اختلاف ہے۔ بعضوں نے کہا کہ جب اس زمین کا مالک مسلمان ہو جائے گا تو اُس کی زمین عشری ہو جائے گی ۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ عشری اور خراجی زمین کے لحاظ سے ہے مالک کے لحاظ سے نہیں ۔ اگر خراجی زمین کو مسلمان خرید لے تو وہ عشری نہیں بن جاتی کیونکہ جو حق ایک وقت میں قائم ہو گیا وہ مالک کے بدلنے سے بدل نہیں جاتا۔ اس بناء پر انہوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ ہندوستان کی زمین خراجی ہے عشری نہیں خواہ بعد میں اُس کے مالک مسلمان ہو گئے ہوں ۔ اس اختلاف پر شاہ صاحب اپنی رائے دے رہے ہیں اور تحریر فرماتے ہیں:۔ امام وقت جو زمین کسی کو بطور انعام دیتا ہے اس کی چار صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ اوّل: امام بیت المال کی مملوکہ زمین کسی کو ہمیشہ کے لئے دے دے۔ دوم: امام بیت المال کی مملوکہ زمین کی آمدن بطور انعام دے دے ( یعنی عشر یا خراج بخش دے) سوم : امام کسی ذمی یا مسلمان کی مملوکہ زمین چھین کر کسی دوسرے کو ہمیشہ کے لئے دے دے۔ چہارم: امام ایسی زمین کی سرکاری آمدن کسی دوسرے کو بطور انعام دے دے۔ ( یعنی زمین مالک ہی کے پاس رہے۔ اُس کا خراج یا عشر دوسرے کو دے دے ) ان میں سے تیسری صورت صرف عقلی احتمال ہے جو خلاف شرع بھی ہے ( جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شاہ عبدالعزیز صاحب کے نزدیک حکومت کا کسی مسلمان یا کافر سے اس کی زمین چھین کر کسی اور کو دے دینا علاوہ خلاف شریعت ہونے کے اس قدر خلاف عقل ہے کہ وہ باور ہی نہیں کرتے کہ کوئی اسلامی حکومت ایسا کرے گی اس لئے لکھتے ہیں کہ عملاً تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ صرف بحث کی خاطر میں اس شق کو بطور احتمال پیش کرتا ہوں ۔ یعنی بفرض محال اگر کوئی حکومت ایسا کرے تو اس کا کیا حکم ہے۔ سو وہ حکم یہ ہے کہ یہ عمل خلاف شریعت ہوگا ) باقی تین صورتوں