انوارالعلوم (جلد 21) — Page 464
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۴ اسلام اور ملکیت زمین قوله لا تكروا المزارع ۵۴ یعنی بعض لوگوں نے رافع کی اس حدیث کو بالکل رڈ کر دیا ہے اور وہ لوگ اس کے بارہ میں یہ کہتے ہیں کہ رافع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا ایک حصہ یا درہ گیا اور دوسرا بھول گیا۔چنانچہ عروہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ( یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی جن کے سپر د حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے قرآن شریف کے جمع کرنے کی ڈیوٹی لگائی تھی اس بناء پر کہ یہ سب سے زیادہ قرآن شریف کو جانتے اور نہایت دیانتدار آدمی ہیں ) کو یہ کہتے سنا کہ اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج کی غلطی معاف فرمائے۔خدا کی قسم ! مجھے یہ حدیث اُن سے زیادہ معلوم ہے۔میں اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا جب یہ واقعہ ہوا آپ کے پاس انصار کے دو آدمی جھگڑتے ہوئے آئے معلوم ہوتا ہے اُن میں سے ایک رافع کے چاتھے اور ایک اُن کا مزارع تھا ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اُن کو اس طرح جھگڑتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا اگر تم لوگوں کی حالت ایسی ہی ہے کہ ان باتوں پر لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہو تو زمین مقاطعہ پر دو ہی نہ اس جھگڑے کو ختم کرو۔معلوم ہوتا ہے رافع نے اتنا فقرہ تو سُن لیا کہ زمین مقاطعہ پر نہ دو اور باقی بات نہ سنی۔میں کہتا ہوں کہ خود رافع کی حدیث سے میں اوپر ثابت کر آیا ہوں کہ رافع خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہی نہیں تھے اُن کو اُن کے چچانے گھر پر آکر یہ بات سُنائی۔پس ہوسکتا ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہو کہ اس قسم کے لڑائی جھگڑوں کو بند کرنے کے لئے میں فی الحال مزارعہ کو ہی روکتا ہوں تو انہوں نے اپنے بھتیجے کو بات کا خلاصہ سنا دیا اور بھتیجے نے اس سے ایک غلط نتیجہ نکال لیا۔اور اس کی قطعی دلیل یہ ہے کہ زید بن ثابت جو نہایت اعلی پائے کے صحابی ، کاتب وحی قرآن اور جامع قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیکرٹری تھے قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ رافع نے یہ بات نہیں سمجھی۔میں خود اس موقع پر موجود تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات یوں نہیں فرمائی بلکہ یوں فرمائی ہے۔اسی طرح ایک اور حدیث بھی اس بارہ میں آئی ہے جو یہ ہے۔عن سعيد بن المسیب عن سعد بن ابی وقاص قال كان اصحاب المزارع يكرون مزارعهم في زمان