انوارالعلوم (جلد 21) — Page 463
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۳ اسلام اور ملکیت زمین ۲ مسند ابوداؤد میں بھی اس حدیث کو درج کر کے یہ لفظ لکھے ہیں حدیث ابراهيم هذا اتم یعنی اس بارہ میں جتنی حدیثیں آئی ہیں ان میں سب سے زیادہ ابراہیم کی مذکورہ بالا حدیث ہی مکمل ہے۔حنفیوں کی معتبر ترین کتابوں میں سے مشہور کتاب طحاوی میں لکھا ہے عن رافع بن خدیج قال كنا بني حارثة اكثر اهل المدينة حقلا وكنا نكرى الارض على ان ماسقى المـاذيانات والربيع فلنا وما سقت الجداول فلهم فربما سلم هذا و ربما هلک وسلم هذا ولم يكن عندنا يومئذ ذهب ولا فضة فنعمل ذالک فسئلنا رسول الله الا الله عن ذالك فنهانا ۱۳ یعنی رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہمارا قبیلہ بنو حارثہ مدینہ میں سب سے زیادہ زمینوں کا مالک تھا اور ہم اپنی زمینیں اس شرط پر مقاطعہ پر دیا کرتے تھے کہ بڑے نالے اور چھوٹے نالے سے براہ راست پانی لے کر یا اُس کے کناروں پر جو فصل ہوگی وہ ہماری ہوگی اور کھائیاں کھود کر جس زمین کو پانی دیا جائے وہ مزارع کی ہوگی نتیجہ یہ ہوتا کہ کبھی یہ سلامت رہ جاتی اور وہ ہلاک ہو جاتی اور کبھی وہ سلامت رہ جاتی اور یہ ہلاک ہو جاتی۔اُس زمانہ میں ہمارے پاس سونا چاندی نہیں ہوتا تھا کہ ہم اُس کے ذریعہ سے یہ کام کرتے۔سو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس بارہ میں دریافت فرمایا تو آپ نے ہم کو اس بات سے روک دیا۔یہ حدیث بھی اس بات پر شاہد ہے کہ مناہی زمین کو مقاطعہ پر دینے کی نہیں تھی بلکہ اُس غلط طریق پر جو جوئے کے مشابہ تھا مقاطعہ پر دینے کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ میں رائج تھا۔بعض صحابہ نے تو رافع کی حدیث کو باوجود ان تشریحات کے غلط قرار دیا ہے چنانچہ مسند ابوداؤ داور طحاوی دونوں میں ایک حدیث درج ہے جو ان الفاظ میں آئی ہے۔وانـکـر بعض عـلـى رافـع و قال انه لم يحفظ اوّل الحديث لان عروة قال قال زيد بن ثابت يغفر الله لرافع بن خديج انا والله كنت اعلم بالحديث منه انما جاء رجلان من الانصار الى رسول الله علم قد اقتتلا فقال ان كان هذا شانكم فلاتكروا المزارع فسمع