انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 463

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۳ اسلام اور ملکیت زمین مسند ابوداؤد میں بھی اس حدیث کو درج کر کے یہ لفظ لکھے ہیں حدیث ابراهيم هذا اتم ۲ یعنی اس بارہ میں جتنی حدیثیں آئی ہیں ان میں سب سے زیادہ ابراہیم کی مذکورہ بالا حدیث ہی مکمل ہے۔ رض حنفیوں کی معتبر ترین کتابوں میں سے مشہور کتاب طحاوی میں لکھا ہے عن رافع بن خدیج قال كنا بني حارثة اكثر اهل المدينة حقلا وكنا نكرى الارض على ان ماسقى الماذيانات والربيع فلنا وما سقت الجداول فلهم فربما سلم هذا و ربما هلك وسلم هذا ولم يكن عندنا يومئذ ذهب ولا فضة فنعمل ذالک فسئلنا رسول الله الله عن ذالك فنهانا ۸۳ یعنی رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہمارا قبیلہ بنو حارثہ مدینہ میں سب سے زیادہ زمینوں کا مالک تھا اور ہم اپنی زمینیں اس شرط پر مقاطعہ پر دیا کرتے تھے کہ بڑے نالے اور چھوٹے نالے سے براہ راست پانی لے کر یا اُس کے کناروں پر جو فصل ہو گی وہ ہماری ہوگی اور کھائیاں کھود کر جس زمین کو پانی دیا جائے وہ مزارع کی ہوگی نتیجہ یہ ہوتا کہ کبھی ا یہ یہ سلام سلامت رہ جاتی اور وہ ہلاک ہو جاتی اور کبھی وہ سلامت رہ جاتی اور یہ یہ ہا ہلاک ہو جاتی ۔ اُس زمانہ میں ہمارے پاس سونا چاندی نہیں ہوتا تھا کہ ہم اُس کے ذریعہ سے یہ کام کرتے ۔ سو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں دریافت فرمایا تو آپ نے ہم کو اس بات سے روک دیا۔ یہ حدیث بھی اس بات پر شاہد ہے کہ مناہی زمین کو مقاطعہ پر دینے کی نہیں تھی بلکہ اُس غلط طریق پر جو جوئے کے مشابہہ تھا مقاطعہ پر دینے کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ میں رائج تھا۔ بعض صحابہؓ صحاب نے تو رافع کی حدیث کو باوجود ان تشریحات کے غلط قرار دیا ہے چنانچہ مسند ابوداؤد اور طحاوی دونوں میں ایک حدیث درج ہے جو ان الفاظ میں آئی ہے۔وانـکــر بـعـض على رافع و قال انه لم يحفظ اوّل الحديث لان عروة قال قال زيد بن ثابت يغفر الله لرافع بن خديج انا والله كنت اعلم بالحديث منه انما جاء رجلان من الانصار الى رسول الله الله قد اقتتلا فقال ان كان هذا شانكم فلاتكروا المزارع فسمع