انوارالعلوم (جلد 21) — Page 462
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۲ اسلام اور ملکیت زمین رض به انما كان الناس يؤاجرون على عهد النبى الله على الماذيانات واقبال الجداول واشياء من الزرع فيهلك هذا ويسلم هذا ـ ويسـلـم هـذا ويهلك هذا فلم يكن للناس كراء الا هذا فلذلك زجر عنه ا یعنی حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج انصاری سے پوچھا کہ کیا زمین کا سونا چاندی کے مقاطعہ پر دینا بھی منع ہے؟ حضرت رافع نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ ما ذیانات اور اقبال الجداول اور کھیتی کے کچھ حصہ کی شرط پر زمین مقاطعہ پر دیا کرتے تھے تو کبھی یہ حصہ مارا جاتا اور وہ بچ جاتا اور کبھی وہ مارا جاتا اور یہ بچ جاتا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کے سوا مقاطعہ پر دینے کا کوئی طریق نہیں تھا پس آپ نے اس سے منع فرمایا ۔ حدیث کے یہ الفاظ کہ لوگ ما ذیانات اور اقبال الجداول پر زمین مقاطعہ پر دیا کرتے تھے اس کے معنی علامہ نووی نے شرح مسلم کی جلد ۲ صفحہ ۱۳ پر یوں درج کئے ہیں ۔ ما ذیانات کے معنی پانی کی نہریں ہیں یا پانی کی نہروں کے کناروں پر جو کھیتی اُگتی ہے۔ اور یہ لفظ غیر زبان کا ہے جو عربی میں اختیار کر لیا گیا ہے ۔ علامہ ابن الاثیر فرماتے ہیں کہ یہ ما زیان کی جمع ہے جس کے معنی بڑے نالے کے ہیں اور حدیث کے معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ زمین اس شرط پر مقاطعہ پر دیتے تھے کہ جو شخص اس زمین کو کاشت کرے وہ نہروں کے کناروں کی فصل ما لک کو دے دے ے اور اور پانی کی نالیوں پر پر جو جو فصل ہو وہ بھی مالک کو دے دے یا وہ یہ شرط کیا کرتے تھے کہ جب فصل ہو گی تو فلاں ٹکڑے کی فصل میں لے لوں گا اور فلاں ٹکڑے کی فصل تجھے دے دونگا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمادیا کیونکہ اس میں دھوکا ہوتا ہے ۔ رض اس حدیث سے بھی واضح ہے کہ خود رافع بن خدیج کے نزدیک مقاطعہ پر زمین دینے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا بلکہ اس دھوکا دینے والے طریق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے جس کو اسلام کے علماء نے کبھی بھی پچھلے پونے چودہ سو سال میں جائز نہیں رکھا ۔ بلکہ یہ طریق متفقہ طور پر تمام مسلمانوں کے نزدیک خواہ وہ سنی ہوں یا شیعہ ہوں یا خارجی ہوں منع اور حرام ہے کیونکہ اس میں جوئے کا رنگ پایا جاتا ہے