انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 456

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۵۶ اسلام اور ملکیت زمین کر کے اپنا حق ثابت کرے۔پس اس معاملہ میں چونکہ حکومت مدعی ہے حکومت ثابت کرے کہ فلاں شخص کے پاس جو جائداد ہے وہ اُس کی نہیں بلکہ حکومت کی ہے اور اُس نے اُس پر ناجائز اور نا واجب قبضہ کیا ہے۔زمین کے قابض کا یہ فرض نہیں کہ وہ یہ دلیل دے کہ وہ زمین اس کے پاس جائز طور پر آئی ہے۔اُس کا قبضہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ قبضہ جائز ہے۔اگر قبضہ جائز نہیں تھا تو کیوں نہیں زمین کا مالک بولا اور کیوں نہیں اس کے خلاف اس نے کوئی کارروائی کی کی۔اس حوالہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دیرینہ قبضہ کے درست ہونے کو جس طرح موجودہ حکومتیں تسلیم کرتی ہیں اسی طرح اسلام کا قانون بھی تسلیم کرتا ہے۔اگر زمین کی برابر تقسیم کے مدعی سرکاری عطیات کے متعلق اپنے اعتراضات محدود کر دیں کی تو بھی ان کا خیال درست نہیں کیونکہ یہ بھی میں چھٹے باب میں ثابت کر آیا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لوگوں کو اتنی اتنی زمینیں دیں جن کی وہ خود کاشت نہیں کر سکتے تھے بلکہ جن کے ہزارویں حصہ کے کاشت کرنے کی بھی ان میں طاقت نہیں تھی۔اسی طرح بعد میں خلفاء نے بھی لوگوں کو ایسے عطیے عطا کئے اور اسلامی بادشاہوں نے بھی لوگوں کو ایسے عطیے دیئے مگر کبھی بھی ان کو نا جائز قرار نہیں دیا گیا۔بلکہ جیسا کہ میں نویں باب میں ثابت کر چکا ہوں امام ابو یوسف کا یہ فتویٰ ہے کہ اس قسم کے عطیات واپس لینے کا کسی کوئی حق حاصل نہیں۔اور اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے جس کو حکومت نے عطیہ کوئی زمین دی ہو یا اس کی اولاد سے زمین واپس لے لے تو وہ ویسا ہی غاصب سمجھا جائے گا جیسا کہ ہر ذاتی ملکیت کا غصب کرنے والا۔( دیکھو نواں باب بعنوان کیا حکومت کسی کے مال پر جس میں زمین بھی شامل ہے ،جبئر اقبضہ کرسکتی ہے؟) اصل سوال تو یہ ہے کہ آیا اسلام اتنی زمین سے زیادہ جس پر انسان خود ہل چلا سکے کسی کو زمین رکھنے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ جس بات کی اسلام اجازت دیتا ہے اُسے گناہ نہیں قرار دیا جا سکتا اور نہ خلاف قانون قرار دیا جا سکتا ہے۔اور جب کوئی چیز نہ گناہ ہے نہ خلاف قانون تو اُس کی ضبطی جائز نہیں ہوسکتی۔معترضین اس جگہ پر تین حوالے پیش کیا کرتے ہیں جن سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اگر کسی