انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 448

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۴۸ اسلام اور ملکیت زمین تجارت کرے اور اُس کے نفع کا ایک حصہ اُس کو دے۔ان حوالجات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ائمہ نے تسلیم کیا ہے کہ اصل نص مال کے متعلق ہے اس لئے زمین کے معاملہ کو مال پر قیاس کیا جاتا ہے۔پس جبکہ اصل نص مال کے متعلق ہے اور زمین کے معاملہ کو اس پر قیاس کیا جاتا ہے تو یہ کہنا کس طرح درست ہوسکتا ہے کہ زمین کے ذریعہ سے تو زیادہ روپیہ کما نا جائز نہیں لیکن روپیہ کے ذریعہ سے زیادہ مقدار میں روپیہ کما نا جائز ہے۔کیونکہ ناجائز ہونے کی قیود شریعت نے نص کے ذریعہ سے مال پر لگائی ہیں زمین پر نہیں لگا ئیں اور فقہاء نے ان قیود کو زمین کی طرف قیاس اور اجتہاد کے ذریعہ سے منتقل کیا کی ہے۔پس شریعت کا مسئلہ یہ ہوگا کہ اصل حرمت مال کے متعلق ہے اور اجتہاداً ہم اس کو زمین کی تھی طرف منتقل کرتے ہیں۔پس جو چیز ہم تجارت اور صنعت و حرفت کے متعلق جائز قرار دینگے وہ لازماً اور بدرجہ اولی زمین کے متعلق جائز ہوگی۔یہ کہنا کہ زمین کا کسی ایک شخص کے پاس ہونا دوسرے افراد کو کمائی سے روکتا ہے اس لئے اس بات کو روکنا چاہئے۔اگر یہ استدلال درست ہے تو بڑی تجارت اور بڑی صنعت وحرفت اور بڑی تنخواہیں بھی سامان معیشت کو دوسرے لوگوں تک پہنچنے سے روکتی ہیں بلکہ جتنی زمین ایک شخص کے پاس رہنے دینے کی تجویز بعض لوگ کر رہے ہیں اس کی آمد کو مد نظر رکھتے ہوئے تو معمولی تجارت اور معمولی صنعت و حرفت کی اجازت بھی کسی شخص کو نہیں دی جاسکتی۔مندرجہ بالا خیالات کے لوگوں کی طرف سے قرآن کریم کی یہ آیت اپنی تائید میں پیش کی کی جاتی ہے۔قُل اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وتَجْعَلُون له الاداء ذلِكَ رَبُّ العلمينَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِي مِن قوقها وبرَكَ فِيهَا وَقَدَرَ فِيهَا أقْوَاتَهَا في اربعة ايام، سواء تسائلين ال یعنی اے انسانو! کیا تم اُس خدا کی صفات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو اوقات میں پیدا کیا اور اُس کے شریک اور مثیل بناتے ہو حالانکہ وہ تمام جہانوں کو پیدا کر کے انہیں ترقی کی ج طرف لے جانے والا ہے۔اور اُس نے (یعنی خدا تعالیٰ نے ) زمین میں پہاڑ بنائے ہیں اور