انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 428

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۲۸ اسلام اور ملکیت زمین صلى الله ہیں کہ حدثني بعض اشياخي من اهل المدينة قال اقطع رسول الله ﷺ بلال ابن الحارث المزني ما بين البحر والصخر ۳۸ یعنی رسول کریم ﷺ نے بلال بن حارث حار کو سمندر اور پہاڑ کے درمیان کا علاقہ سارے کا سارا بخش دیا۔ اس واقعہ کو سنن ابو داؤد باب اقطاع الارضین صفحہ ۴۳۵ پر یوں بیان کیا گیا ہے کہ عمر و بن عوف روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث المزنی کو سمندر سے لے کر مدینہ کے قریب کے پہاڑ قدس تک تمام کا نہیں اور تمام اونچے ٹیلوں والی زمینیں اور تمام نشیب والی زمینیں عطا فرمادی تھیں لیکن یہ شرط لگا دی تھی کہ اس علاقہ میں اگر کسی مسلمان کی زمین ہو تو وہ تم کو نہیں ملے گی اور ان الفاظ میں آپ نے اُن کو ہبہ نامہ عطا فرمایا تھا۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هذا ما اعطى محمد رسول الله لال له بلال ابن الحارث المزني اعطاه معادن القبلية من القدس جلسيها و غوريها وحيث يصلح الزرع ولم يعطه حق مسلم ۳۹ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلال بن حارث کو یہ پروانہ دیتے ہیں کہ آپ نے ان کو قبلیہ کی کانیں خواہ وہ اونچی جگہوں پر ہوں یا نیچی جگہوں پر ہوں اور قدس پہاڑ کے پرے جتنی زمین زراعت کے قابل ہے سب کی سب بخش دی ہے ۔ یہ زمین اتنی بڑی تھی کہ باوجود اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی فتوحات سے مسلمانوں کے پاس بہت مال آگیا تھا پھر بھی بلال اُن کو آباد نہیں کر سکے اور اس بارہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک قدم اُٹھانا پڑا جس کا ذکر ایک اگلے باب میں آئے گا۔ كنز العمال جلد ۲ صفحہ ۱۹۰ پرسنن بیہقی کے حوالے سے یہ روایت لکھی ہے کہ عن عبدالله بن الحسن ان عليا سال عمر بن الخطاب فاقطعه ينبع ۔ یعنی عبداللہ بن حسن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے خواہش کی کہ وہ انہیں کچھ زمین ہبہ کریں ۔ اس پر انہوں نے ینبع قصبہ سارے کا سارا اُن کے نام لکھ دیا۔ ينبع ایک قصبہ ہے جو مدینہ منورہ کا بندرگاہ بھی ہے اس لحاظ سے اسے خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ اس قصبہ کے ساتھ پانچ سات ہزار ایکڑ زمین تو ضرور ہوگی بلکہ اس