انوارالعلوم (جلد 21) — Page 420
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۲۰ اسلام اور ملکیت زمین آ رہا ہے اور اُس پر اُس کا قبضہ ہے یا جس نے وہ زمین خریدی ہے یا جس کو وہ زمین ہبہ میں ملی ہے یا جس نے کسی اُفتادہ زمین پر کہ جو کسی کی ملکیت نہیں تھی قبضہ کر لیا ہے اسلامی شریعت کے رُو سے وہ شخص اُس کا مالک تصور کیا جائے گا ویسا ہی مالک جیسا کہ کارخانہ کا مالک اُس کا مالک ہے یا تجارتی دکان کا مالک اُس کا مالک ہے یا ملازمت سے حاصل ہونے والے روپے کا مالک اُس کا مالک ہے۔ہاں اگر ان چار ذرائع کے سوا کسی اور ناجائز ذریعہ سے کسی نے کوئی زمین دبالی ہو تو حکومت کا حق ہے کہ اُس کو واپس لے۔لیکن اوپر کے بیان کردہ چار ذرائع کے لحاظ سے اگر کوئی شخص کسی زمین کا مالک ہے تو یہ کہ کر کہ زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اُس پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ زمین کا ہی مالک نہیں وہ نوکریوں کا بھی مالک ہے۔تجارتوں کا بھی مالک ہے، صنعت و حرفت کا بھی مالک ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی ملکیت کی وجہ سے زمینوں پر قبضہ کرنا جائز ہے تو اللہ تعالیٰ کی ملکیت کی وجہ سے تجارتوں پر بھی ، صنعت و حرفت پر بھی اور ملازمتوں پر بھی قبضہ کرنا چاہیے، بلکہ افراد کی جانیں بھی خدا تعالیٰ کی ملکیت ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی ملکیت کے یہ معنی ہیں کی کہ حکومت اپنے آپ کو ظل اللہ قرار دے کر جس چیز پر چاہے قبضہ کر لے تو پھر حکومت کو لوگوں کی چھ جانوں پر بھی قبضہ حاصل ہونا چاہئے۔حکومت کو اختیار حاصل ہونا چاہئے کہ جس کو چاہے جس کام پر لگا دے اور کھانا کپڑا دے دے کوئی تنخواہ وغیرہ مقرر نہ کرے جیسا کہ غلاموں کے ساتھ کیا جاتا ہے لیکن یہ امرسوائے بالشوزم کے اور کہیں جائز نہیں سمجھا جاتا۔