انوارالعلوم (جلد 21) — Page 419
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱۹ اسلام اور ملکیت زمین اپنی مرضی سے یا صحابہ کے مانگنے پر اُن کو زمینیں عطا فرمائیں۔چنانچہ کنز العمال میں بیہقی کے حوالہ سے لکھا ہے۔عن عبد الله بن ابى بكر قال جاء بلال بن الحارث المزنى الى رسول الله فاستقطع ارضا عريضة طويلة فقطعها - یعنی عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ بلال بن حارث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ زمین کا ایک بہت لمبا اور چوڑا قطعہ اُن کے نام ہبہ کر دیا جائے۔اُن کی اس درخواست کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا اور ایک بہت بڑ اٹکڑہ جو شاید بیسیوں مربع میل کا تھا اُن کو ہبہ کر دیا۔چوتھی صورت یعنی ایسی جگہ پر قبضہ کر لینا جس پر کسی اور کا قبضہ نہ ہو اور اُس پر قبضہ کرنا شریعت کے رو سے جائز ہو۔اس کی مثال کے طور پر میں یہ حدیث پیش کرتا ہوں۔بخاری میں لکھا ہے کتاب المزارعة باب من احيا ارضامواتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مـن اعـمـر ارضا ليست لاحد فھوا حق۔جس نے کسی ایسی زمین کو آباد کر دیا جو کسی کی نہیں وہ اُس کا حقدار ہے۔اسی طرح بخاری کی اسی کتاب اور اِسی باب میں یہ درج ہے کہ قــال عـمـر مـن احـيـا ارضا ميتة فهى لــه - حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص کسی ایسی لاوارث زمین پر قابض ہو گیا جس کا کوئی مالک نہیں وہ اُسی کو ملے گی۔یہ بات پہلے بیان ہو چکی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ایسا قبضہ اُسی صورت میں جائز ہوگا جبکہ امام کی طرف سے اس کی اجازت دی جائے کیونکہ لاوارث زمین در حقیقت حکومت کی ہوتی ہے پس امام ابو حنیفہ کے نزدیک چونکہ حکومت اُس کی مالک ہے حکومت کی اجازت کے بعد اُس پر قبضہ کرنا چاہیے یونہی نہیں۔باقی آئمہ کے نزدیک چونکہ حکومت اُس کو کام میں نہیں لا رہی اور در حقیقت مالک افراد ہیں حکومت صرف مختار کا ر ہے اس لئے اگر افراد کی میں سے کوئی شخص ایسی زمین پر بقدر ضرورت قبضہ کر لے تو وہ جائز ہوگا۔میری غرض ان حوالوں کو نقل کرنے سے یہ ہے کہ ہر مسلمان جو نسلاً کسی زمین کا وارث چلا