انوارالعلوم (جلد 21) — Page 407
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۰۷ اسلام اور ملکیت زمین مناسب سمجھوتہ مالک اور نیا قبضہ کر نیوالے لوگوں میں کروا دے۔میری دلیل اِس بارہ میں یہ ہے کہ بلال بن حارث مزنی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو زمین ملی تھی جب وہ اُس کو آباد نہ کر سکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُن سے وہ زمین چھینی نہیں بلکہ اُنہیں بُلا کر سمجھایا اور آخر اُن کی اِس شرط کو قبول کر لیا کہ میں زمین تو چھوڑتا ہوں لیکن اس زمین کی کا نہیں سب میری ملکیت ہونگی۔کے اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلا کہ حکومت کی اپنی عطا کردہ اُفتادہ زمین کو بھی حکومت ملک کی اقتصادی حالت کے درست کرنے کے لئے واپس تو لے سکتی ہے لیکن اُسے مالکوں سے معاہدہ کرنا پڑے گا جبراً ایسی زمین حاصل نہیں کر سکتی۔ملکیت زمین کے متعلق آئمہ اہل تشیع کا بھی وہی خیال ہے جو اہل السنت کا ہے۔چنانچہ فروع الکافی جلد ۲ صفحہ ۱۰۸ میں جو اہل تشیع کے نزدیک حدیث کی ویسی ہی مستند کتاب ہے جیسی اہل السنت کے نزدیک بخاری اور مسلم ہیں یہ حدیث آتی ہے کہ عن معاوية بن وهب قال سمعت ابا عبدالله يقول۔ان الارض الله ولمن عمرها یعنی معاویہ بن وہب کہتے ہیں یعنی امام ابو عبد اللہ علیہ اسلام سے سنا کہ زمین کا اول مالک اللہ ہے اور اس کے بعد وہ شخص مالک ہے جس نے اُسے آباد کیا ہے۔پس اس سوال کے متعلق کہ آیا افراد زمین کے مالک ہو سکتے ہیں یا نہیں ؟ تمام مسلمان فرقے متفق ہیں اور اُن کا یہ فیصلہ ہے کہ افراد زمین کے مالک ہو سکتے ہیں مگر وہ ملکیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوگی کیونکہ اصل مالک وہ ہے۔اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ جب زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے تو کیا حکومت کو جو خدا تعالیٰ کی کی ظل ہے اس بات کا اختیار حاصل نہیں کہ وہ ملکیت زمین کے متعلق کوئی نیا قانون جاری کی کر دے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔ظلی حکام کی حکومت اُس طرح محدود ہوتی ہے جس طرح خلقی مالک کی ملکیت محدود ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول نے جہاں خالی مالکوں کے لئے کچھ قیود مقرر کی ہیں وہاں ظلی حاکموں کے لئے بھی اُس نے کچھ قیود مقرر کر دی ہیں اور وہ قیود یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول اور السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ کے فیصلہ کے خلاف کوئی نیا می قانون جاری نہیں کیا جاسکتا اور زمین کا معاملہ ایسا ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ کا فیصلہ بھی موجود ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ بھی موجود ہے اور خلفائے اربعہ اور ائمہ صحابہ کا فیصلہ بھی