انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 404

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۰۴ اسلام اور ملکیت زمین مما سبق اليه من غير مضارة فالارض الميتة التى ليست فى البلادو لافي فناء ها اذا عمرها رجل فقد سبقت يده اليها من غير مضارة - ۱۲ یعنی جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا مال ہے۔حقیقی ملکیت اس میں کسی اور کو حاصل نہیں لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین اور جو کچھ اس میں ہے اُس سے فائدہ اُٹھانے کی اجازت دی ہے اس لئے بوجہ ملکیت کی مشارکت کے اعلان کے باہمی اختلافات کا دروازہ کھل جاتا ہے۔پس اس مخالفت کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ جو شخص کسی دوسرے فرد کے حق کو نقصان پہنچائے بغیر کسی چیز پر پہلے قبضہ کرلے وہ اُسی کی ملکیت سمجھی جائے گی۔چنانچہ وہ زمین جو شہری حدود میں نہ ہوا اور نہ شہر کے گرد کے علاقہ میں ہو اور کسی کی کے قبضہ میں نہ ہو جب اُسے کوئی شخص قبضہ میں لے آئے تو اُس کا قبضہ صحیح سمجھا جائے گا اور ی باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دنیا کی ہر چیز کے تمام انسان مشترک مالک ہیں اُس حصہ پر اُس شخص کی منفر د ملکیت تسلیم کر لی جائے گی اور کسی کو اختلاف کرنے کا حق نہ ہوگا۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب بھی اسلام کی مالکیت کے متعلق تعلیم میں وہی عقیدہ کی رکھتے ہیں جو میں نے قرآن کریم سے استدلال کر کے اوپر بتایا ہے۔اور ان کے نزدیک بھی تمام اشیاء کا مالک اللہ تعالیٰ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی اجازت اور اس کے ارشاد کے ماتحت کھیتوں اور دوسری چیزوں کی ملکیت فرد واحد حاصل کر سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ فقرہ بھی لکھا ہے کہ معنی الملک فی حق الادمی کونه احق بالا نتفاع من غیرہ آدمی کے حق میں ملکیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ دوسرے شخص کی نسبت زیادہ فائدہ اُٹھانے کا شرعاً حقدار ہوتا ہے۔حدیث کی کتاب ابو داؤد میں آتا ہے۔من سبق الى مالم يسبق اليه مسلم فهوله جو شخص کسی ایسی چیز پر قبضہ کرلے جس پر پہلے کسی اور مسلمان نے قبضہ نہیں کیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔اسی طرح حنفیوں کی مشہور کتاب ھدایہ میں لکھا ہے من سبقت يده الى مال مباح ملکه ها جس نے دوسرے سے پہلے کسی ایسی چیز پر قبضہ کر لیا جس کا کوئی فرد مالک نہیں تو وہی