انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 403

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۰۳ اسلام اور ملکیت زمین مخلوقات بھی میں نے پیدا کیں اور تم کو بھی میں نے پیدا کیا ہے۔جس طرح دنیا کا ہر ذرہ میں نے تمہارے لیے پیدا کیا ہے تم کو میں نے دنیا کی باقی مخلوق کے لئے پیدا کیا ہے۔جس طرح کی خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً کہہ کر باقی مخلوق کو تمہاری ملکیت بنایا گیا ہے اسی طرح جی اس فقرہ سے تم بھی تو دوسرے انسانوں کے مملوک ہو جاتے ہو۔کیونکہ تمام انسان بھی ما في الارض میں شامل ہیں۔پس جس طرح زمین کا ہر ذرہ تمام نوع انسان کیلئے ہے اسی طرح زمین کا ہر فرد تمام بنی نوع انسان کیلئے بلکہ ساری مخلوقات کیلئے ہے اور یہ ملکیت در حقیقت ایک غیر متناہی دائرہ کی صورت میں اس دنیا میں قائم کی گئی ہے۔اس وجہ سے ہر ذرہ اور ہر فرد پر خدا تعالیٰ کی طرف سے حق ہے کہ وہ دوسرے ذرّات اور دوسرے افراد کی خدمت کرے۔اسلام کی ساری تعلیم اسی نکتہ کے ماتحت ہے اس سے باہر نہیں۔دوسرے مذاہب نے بھی خدمت خلق وغیرہ کے مسائل بیان کئے ہیں لیکن اُنہوں نے ان مسائل کے جواز کی کوئی صورتی پیش نہیں کی۔اسلام نے اس حقیقت کو بیان کر کے ان تمام احکام کے جائز اور درست ہونے کی دلیل مہیا کر دی ہے۔ہاں یہ بھی قرآن کریم نے بتا دیا ہے کہ یہ تمام باہمی ایک دوسرے پر ملکیت کی کے حقوق خدا تعالیٰ کے بیان کردہ قواعد کے ماتحت ہونگے اُن سے باہر نہیں ہونگے کیونکہ ملکیت کی خدا تعالیٰ کی ہے کسی اور کی نہیں۔اور جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اللہ تعالیٰ نے جنسی ملکیت کے علاوہ جو تمام بنی نوع انسان کو دنیا کی تمام اشیاء پر حاصل ہے فردی ملکیت کو بھی تسلیم فرمایا ہے۔جیسا کہ خود فرماتا ہے۔واللهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ الله تعالى نے ہی تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے۔اگر فردی ملکیت مسلم نہیں تو کسی شخص کو دوسرے پر رزق میں جائز طور پر فضیلت حاصل ہی نہیں ہوسکتی۔میں نے جو ان آیات کی تشریح کی ہے میری اس تشریح کے ساتھ پرانے ائمہ بھی متفق ہیں۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ جلد ۲ صفحه ۹۲ پر تحریر فرماتے ہیں:۔ان الكل مال الله ليس فيه حق لاحد في الحقيقة لكن الله تعالى لما اباح لهم الانتفاع بالارض وما فيها وقعت المشاحة فكان الحكم حينئذ ان لا يهيج احد