انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 402

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۰۲ اسلام اور ملکیت زمین کچھ بھی ہے سب کا سب تمہیں مفت فائدہ اُٹھانے کے لئے عطا فرمایا۔اس میں سوچنے والے لوگوں کے لئے بڑے بھاری نشانات ہیں۔اس آیت میں دو باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔اوّل یہ کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ تو ظاہری طور پر انسان کے سپرد ہے ہی مگر زمین کے اوپر اور بلندیوں میں جو کچھ ہے اس سے بھی انسان فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور اُٹھاتا ہے اور یہ بات شریعت یا اسلام کے خلاف نہیں۔دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ انسان کو اپنی علمی ترقی میں صرف زمینی چیزوں پر غور کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انسان کی ایجاد کا سلسلہ آسمانی چیزوں تک ممتد ہے۔نظر آنے والی روشنی کی شعاعیں اور نہ نظر آنے والی شعاعیں اور آسمانی ستاروں کی سرگرمیاں اور اور کئی چیزیں معلوم اور غیر معلوم ان گنت ایسی ہیں جن کو انسان غور کر کے معلوم کر سکتا اور اپنے فائدہ کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔پس انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف زمین پر ہی قبضہ نہیں ملا بلکہ زمین سے پیدا ہونے والی یا ان سے پیدا ہونے والی تمام چیزوں پر قبضہ ملا ہے اور ان سب چیزوں کو کی استعمال کرتے وقت انسان خدا تعالیٰ کا اجیر ہوتا ہے، کامل مالک نہیں ہوتا۔حتی کہ جس دماغ سے انسان کام لیتا ہے اُس کا مالک بھی خُدا ہے۔اور اس سے فائدہ اُٹھاتے وقت بھی انسان کی اپنی کامل ملکیت کی چیز سے فائدہ نہیں اُٹھا رہا ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ کی مشروط طور پر دی ہوئی چیز سے ایک مشروط حد تک اور مقید حد تک فائدہ اُٹھا رہا ہوتا ہے۔اور جس طرح زمین کی تمام چیزیں کی تمام بنی نوع انسان کی ملکیت ہیں اسی طرح ان سے آگے نکلی ہوئی تمام چیزیں بھی تمام بنی نوع انسان کی ملکیت ہیں حتی کہ خود تمام انسان بھی ایک رنگ میں تمام بنی نوع انسان کی ملکیت ہیں۔اگر یہ نہ ہوتا تو اسلام کیوں تمام بنی نوع انسان کے ذمہ یہ خدمت لگا تا کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی خدمت کریں۔در حقیقت یہ ملکیت کا مسئلہ قرآن کریم نے صرف ایک اعتقادی مسئلہ کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ اسلامی احکام کی اس میں تشریح اور توضیح کی ہے۔اسلام کہتا ہے سچ بولو اور اسلام کہتا ہے لوگوں سے بچ بلواؤ۔ایک انسان کہہ سکتا ہے کہ مجھے یہ حکم کیوں دیا جا رہا ہے۔آخر خدا کو اس کی سے کیا واسطہ ہے؟ خدا تعالیٰ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ یہ دنیا بھی میں نے پیدا کی ، دوسری