انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 391

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۹۱ اسلام اور ملکیت زمین میں ہندو مذہب کو کوئی فائدہ پہنچا یا نہیں یا اسلام کو کوئی فائدہ پہنچا یا نہیں لیکن ظاہری صورت یہی ہو گئی کہ ایک طرف و یدک تہذیب کی بلندی کے نعرے لگنے لگ گئے اور دوسری طرف اسلام زندہ باد کا آوازہ بلند ہونے لگا۔ہندوؤں کا مذہب چونکہ کسی معین صورت میں باقی نہیں، جو لوگ ہندو مذہب کی تائید میں جدو جہد کرنے لگے اُن کی کوششیں بجائے ہندو مذہب کی مضبوطی کے اسلام کی تخریب میں خرچ ہونے لگیں۔کیونکہ جب کوئی عمارت ہو ہی نہ تو اُس کی مرمت اور اصلاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ایسی صورت میں انسان صرف یہی کر سکتا ہے کہ اپنے مد مقابل کے مکان کو گرانے کی کوشش کرے۔لیکن مسلم لیگ کی کوششوں کے نتیجہ میں جو اسلام کی زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے اس سے مسلم عوام کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا شروع کی ہو گیا کہ اب اسلامی احکام کو اُس علاقہ میں جاری کیا جائے گا جو مسلمانوں کے قبضہ میں آئے گا۔مسلمان اسلام سے غافل تھا ، مسلمان اسلام کی پابندی چھوڑ چکا تھا ، اکثر مسلمانوں نے قرآن کا نام سنا تھا اُسے کھول کر دیکھا نہیں تھا ، مسجدیں خالی پڑی تھیں ، زکوۃ جن جن پر واجب تھی وہ اُس کے دینے سے گریز کرتے تھے ، سُود کا عام رواج ہو رہا تھا ، حج کو وہ لوگ تو نہ جاتے تھے جن پر حج فرض تھا ہاں اُن لوگوں میں سے کچھ تعداد جاتی تھی جن پر حج فرض نہیں تھا لیکن اسلام کی محبت مسلمان میں باقی تھی اُس کی عظمت کا وہ قائل تھا۔وہ اُس پر متواتر عمل کرنے کو تیار نہ تھا لیکن ہنگامی طور پر اُس پر جان دینے پر آمادہ تھا۔وہ عملاً تو اسلام پر قائم نہ تھا لیکن اُس کے دل کی گہرائیوں میں یہ احساس موجود تھا کہ اسلام پر عمل کرنا اُس کے لئے دینی و دنیوی طور پر اچھا ہوگا۔وہ ایک افیون کے نشہ میں مبتلا آدمی کی طرح جو ایسے گھر میں پڑا ہو جس میں آگ لگ جی چکی ہو خود اپنی کوشش سے تو اپنی حالت کو بدل نہیں سکتا تھا لیکن اُس کے اندر یہ خواہش ضرور تھی کہ کوئی مجھے اٹھا کر محفوظ جگہ پر ڈال دے۔وہ یہ چاہتا تھا کہ مجھ سے کوئی حکومت جبراً اسلام پر عمل کروانے لگے۔غرض قوت عمل اُس کی بیکار تھی لیکن ارادہ نیک ابھی زندہ تھا۔مسلمانوں میں سے سیاسی اقتدار حاصل کرنے والے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ جس طرح ہند و مسلمانوں کے خلاف کچھ قانون بنا کر اپنی قوم میں سچا ہندو کہلا سکتا ہے اس طرح ہم ہندوؤں کے خلاف کوئی قانون بنا سچے مسلمان نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ ہندو مذہب ایک خیالی چیز ہے اسلام ایک حقیقت ہے۔