انوارالعلوم (جلد 21) — Page 373
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۷۳ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی تقدیر تھی جائیں گے لیکن ان اخراجات میں سے کچھ حصہ ایسا بھی ہے جو واپس آ جائے گا۔ مثلاً لکڑی ہے یہی لکڑی دوسرے مکانات کے کام آ جائے گی ۔ یہ خدا تعالیٰ کی تدبیر تھی کہ بجائے اس کے کہ وہ ہم پر کوئی نیا بوجھ ڈالے، ہمیں اس زمین سے ہی روپیہ مل رہا ہے ۔ اب زمین بہت تھوڑی رہ گئی ہے۔ صرف چارسو کنال کا ٹکڑا ایسا رہ گیا ہے جو فروخت نہیں ہوا جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہی قیمت رہی تو تین لاکھ روپیہ کی اور امید ہو سکتی ہے مگر بعد میں آنے والوں کو مرکز میں دیر سے آنے کا کچھ خمیازہ بھی بھگتنا چاہیے۔ اگر زمین کی قیمت کچھ بڑھا دی گئی تو شاید کچھ اور رقم آ جائے اور پندرہ سولہ سو روپیہ مزید مل جائے ۔ اگر میری یہ رائے صحیح ہے کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے بلکہ میں رای العین کی طرح کہہ سکتا ہوں کہ یہ خدا کا قائم کردہ ہے تو پندرہ سو کیا پندرہ ہزار بھی آجائیں گے بہر حال اس وقت ہمیں پندرہ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے تین لاکھ پچاس ہزار کی تو زمین پک چکی ہے اور تین چار لاکھ روپیہ کی اور آمد ہو گی مگر ضرورت ہے پندرہ لاکھ روپیہ کی ۔ آٹھ لاکھ روپیہ باقی رہ جاتا ہے وہ کہیں سے پورا کرنا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ چندہ حفاظت مرکز کے وعدے جن کے ذمہ واجب الادا ہیں وہ ادا کر دیں ۔ اگر ان لوگوں نے جو اب سستی کر رہے ہیں کوشش کی تو شاید چار پانچ لاکھ اور بھی جمع ہو جائے ۔ یہ بارہ تیرہ لاکھ کے قریب ہو جاتا ہے ۔ رہ گیا تین لاکھ روپیہ اس کے لئے میں چند تجاویز دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں جن پر عمل کر کے وہ بغیر تکلیف اُٹھائے ربوہ کی آبادی میں مدد دے سکتے ہیں ۔ یہ تو میں نے اشارہ کر دیا ہے کہ جو یہاں آنا چاہتے ہیں وہ آ جائیں ورنہ بعد میں ہزار ہزار، پندرہ پندرہ سو روپیہ فی کنال کے حساب سے بھی زمین نہیں مل سکے گی ۔ دوست اگر کوشش کریں تو یہ کوئی مشکل امر نہیں اگر وہ الگ الگ زمین لیں تو شاید سالوں میں بھی یہاں مکان نہ بناسکیں لیکن اگر دو دو ، تین تین مل کر ایک ٹکڑہ خرید لیں اور مکان بنالیں ، پھر دوسرا ٹکڑا خرید لیں اور مکان بنالیں تو بڑی آسانی سے وہ یہاں مکان بنا سکتے ہیں ۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ امانت تحریک جدید اور امانت صدرانجمن احمدیہ کی برکت کو تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے یہاں روپیہ جمع کرنے کی وجہ سے گذشتہ فسادات میں ہزاروں احمدیوں کا