انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 371

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۷۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی کچھ نہیں۔اب یہ جگہ ہمیشہ کے لئے بابرکت ہے خواہ ہمیں اسے کسی وقت چھوڑ نا ہی پڑے۔اس کی برکت اس سے کبھی چھینی نہیں جائے گی بلکہ پیش گوئیوں سے جو کچھ معلوم ہوا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ قیامت سے پہلے یہ جگہ ضرور ایک دفعہ علم محمدی کے سر بلند کرنے کی کا موجب ثابت ہوگی اور اسرافیل یہاں سے ایک دفعہ ضرور اپنا صور پھونکے گا لیکن میں کہتا ت ہوں خواہ اوپر کے امور میں سے کوئی بھی درست نہ ہوتا پھر بھی جماعت کے لئے ایک مرکز کی ضرورت تھی۔اگر کسی کے پاس روحانی آنکھیں نہیں کہ وہ اس چیز کی اہمیت کو محسوس کر سکے تو کم از کم اتنی عقل تو اُس میں ہونی چاہیے کہ وہ اس بات کو سمجھ سکے کہ بغیر مرکز کے جماعت ترقی نہیں کرسکتی۔قادیان بے شک ہمارا مرکز ہے مگر اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ ہماری زندگی کی بنیا در کھنے والا ہے۔پس جب کبھی ہمارا عملی مرکز وہاں سے جدا ہو، اس عرصہ میں بھی کوئی نہ کوئی مرکز ضروری ہے تا کہ اجتماعی کام خوش اسلوبی سے ہو سکیں وہ ربوہ نہ سہی کوئی سہی۔اور اور کوئی نہ ہو تو ربوہ سہی۔بہر حال جب تک ہم اکٹھے نہیں رہیں گے اُس وقت تک اسلام کی ترقی کے لئے سکیمیں کس طرح بنائیں گے۔اکٹھے نہ بیٹھیں گے تو مل کر کام کس طرح کریں گے۔ہمارے مبلغ کہاں تیار ہوں گے، لٹریچر کہاں تیار ہو گا ، لائبریریاں کہاں قائم ہوں گی ، دین سیکھنے کے خواہش مند دین کہاں سیکھیں گے، روپیہ کہاں جمع ہوگا، سکول کہاں بنائے جائیں گے ،مبشرین کی کلاسیں کہاں کھولی جائیں گی۔پس اگر یہ پیش گوئیاں نہ بھی ہوں تب بھی ہمیں کوئی نہ کوئی جگہ مرکز کے لئے اختیار کرنی پڑے گی۔اگر کسی کے پاس روحانی آنکھیں نہیں تو بے شک وہ ان باتوں کو نہ مانے جن کو میں نے ابھی بیان کیا ہے اس میں میرے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ خدا تعالی کی باتیں ہیں جو پوری ہو کر رہیں گی لیکن انہیں کم از کم اتنا تو ماننا پڑے گا کہ ہمارے لئے اپنے کام کو جاری رکھنے کے لئے مرکز بنانا ضروری ہے اور جب ہمیں کسی نہ کسی جگہ مرکز بنانا ہی پڑے گا تو اس کو آباد کرنا بھی جماعت کا ہی کام ہے۔قادیان سے نکلنے کے بعد ہمارا کام بہت ترقی کر گیا ہے۔وہی مبلغ جو دوسرے ممالک میں بیٹھے نہایت ستی کے ساتھ کام کر ر۔تھے انہیں یکدم ہوش آگیا اور وہ بڑے بڑے عالم اور فقیہہ بن گئے ہیں اور اپنے کام کو اُنہوں