انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 367

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۷ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی پیشگوئیاں جن میں کہا گیا تھا کہ اے پہاڑ و ! اور اسے پرندو! ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم مسیح موعود کے ساتھ مل کر ذکر الہی کرو، ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے والا پھر پیدا نہ ہوگا کیونکہ بہ پوری ہو چکی ہیں۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور وہ دوبارہ اس دنیا میں آ ئیں گے مگر یہ لوگ اسی طرح انتظار کرتے جائیں گے یہاں تک کہ نسل کے بعد نسل گزرتی جائے گی لیکن آسمان سے کوئی نہیں آئے کچھ گا۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ لوگ شاید اس انتظار میں ہوں کہ کوئی اور مسیح آئے گا جو پہاڑی کی علاقہ میں جائے گا اور جس کے ساتھ پہاڑ اور پرندے مل کر ذکر الہی کو بلند کریں گے لیکن وہ مج انتظار کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ اُن کی نسل کے بعد نسل گذر جائے گی اور غالباً یہ ہے انتظار کرنے والے احمدی ہی ہوں گے مگر وہ مسیح جسے پہاڑ پر جانے اور ایک نئی بنیا د ر کھنے کا حکم تھا وہ اب کبھی نہیں آئے گا کیونکہ وہ آچکا ہے۔اب قیامت تک دوسرا ان پیشگوئیوں کا پورا کرنے والا پیدا نہ ہو گا۔منافق ہنتے چلے جائیں گے، منکر انکار کرتے جائیں گے مگر ایک دن ان کی امیدوں کا پودا خشک ہو جائے گا ، اُمنگوں کی عمارت گر جائے گی تب وہ حسب عادات منکرین سرے سے ان پیشگوئیوں ہی کا انکار کر دیں گے۔مگر جس طرح انتظار سے کچھ نہیں بنے گا انکار سے بھی کچھ نہیں بنے گا دلہنیں اپنے سنگھار سے خوش و خرم ہوں گی ، بیوائیں خون کے آنسو بہاتی چلی جائیں گی۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ربوہ کی پوزیشن کیا ہے۔ربوہ کو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کا دوسرا مسکن مقرر فرمایا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسیح موعود کی الہامی جائے پناہ قرار دیا ہے۔میرے الہامات نے اس پیشگوئی کے قرب میں پورا ہونے کا اعلان کیا ہے۔سوچ اب یہ مقدس ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی مقدس جگہیں ہوتی ہیں۔مجھے تعجب آتا ہے کہ سکھ تو اپنے گورؤوں کی جگہ کو مقدس سمجھتے ہیں لیکن ہماری جماعت کا یہ عجیب احساس ہے کہ وہ بجھتی ہے جو چاہے یہ حق لے لے حالانکہ سب سے پہلے ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی جگہوں کو مقدس کہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدس قرار دی گئی ہیں۔پس اب یہ ایک مقدس مقام ہے اور یہاں کی عبادتیں دوسری جگہوں کی عبادتوں سے اچھی