انوارالعلوم (جلد 21) — Page 343
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۴۳ دنیا کے معزز ترین انسان محمد یہ وسلم ہیں وہ بات غیر کے منہ سے کہلوا سکیں جو عبد اللہ کے بیٹے نے عبد اللہ کے منہ سے کہلوائی۔کس طرح کی ہم کو چین آ رہا ہے ، کس طرح ہمارے دل اِدھر اُدھر کی باتوں میں مشغول ہیں اگر عبداللہ کے بیٹے جتنا ایمان ہی ہمارے دلوں میں ہوتا۔حالانکہ چاہیے تھا کہ اس سے بہت زیادہ ایمان ہوتا تو ہمارا فرض تھا کہ ہم اُس وقت تک صبر نہ کرتے جب تک دنیا کو گھٹنے ٹیک کر یہ الفاظ کہنے پر مجبور نہ کر دیتے کہ دنیا کا سب سے زیادہ معزز وجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے اور اس کا دشمن سب سے زیادہ ذلیل ہے۔ہم ایک دفعہ پھر یہاں جمع ہوئے ہیں خدا تعالیٰ کی عنایت اور اُس کی مہربانی سے۔آؤ ہم سچے دل سے یہ عہد کریں کہ ہم کم سے کم عبد اللہ کے بیٹے جتنا ایمان دکھائیں گے اور جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کا اقرار دنیا سے نہیں کرواتی لیں گے اُس وقت تک ہم اطمینان اور چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ایمان کہلا تا تو ہمارا ایمان ہے لیکن حقیقتا خدا تعالیٰ کے پیدا کئے بغیر پیدا بھی نہیں ہو سکتا اس کی لئے آؤ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مہربانی کر کے ہم لوگوں کو جو درحقیقت اُس کے فضلوں کے مستحق نہیں سخت کمزور ہیں اور اعمال میں سست اور غافل ہیں اپنا فضل نازل کر کے وہ ایمان کی بخشے ، وہ غیرت بخشے کہ ہمارے دلوں کی آگ سلگتی چلی جائے ، بھڑکتی چلی جائے یہاں تک کہ ہم پورے عزم اور ارادہ کے ساتھ دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑے ہو جائیں اور اُس وقت تک آرام کا سانس نہ لیں جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اور آپ کی عظمت کو کی پھر دنیا میں قائم نہ کر دیں اور وہ ظلم اور بے انصافی جو ہمارے آقا سے ہوتی چلی آرہی ہے اس کا تی بدلہ نہ لے لیں۔مگر وہ بدلہ نہیں جو سروں کو تلوار سے کاٹتا ہے بلکہ وہ بدلہ جو دلوں کو محبت سے بھرتا ہے تا کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کا نام پھر روشن ہو اور اللہ تعالیٰ کا جلال ایک دفعہ پھر ظاہر ہو جائے۔پس آؤ میرے ساتھ دعا کرو۔دل کے ساتھ ، خشیت کے ساتھ ، امیدوں کے ساتھ اور اپنے عجز کے ج اظہار اور کمزوری کے اعتراف کے ساتھ کیونکہ سچی دعا وہی ہوتی ہے جو ایک طرف اپنی کمزوری کا عجز کا اعتراف رکھتی ہے تو دوسری طرف خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے اُس میں مایوسی نہیں ہوتی۔الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۴۹ء) قاز: ایک آبی پرنده